پاکستان کی مثالی کھوکھلی عمارت جیسی ہوگئی جو کسی پر بھی گر سکتی ہے، پشتونوں کی خوشحالی کیلئے لشکر نکلیں گے، محمود اچکزئی

0

کوئٹہ\ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ الیکشن میں مداخلت نہ کرنے کی باتیں اچھی ہےں مگر یہاں اب بھی ووٹوں کے خریدار آکر کہتے ہیں کہ ہمیںآپ لوگ کچھ ووٹ دے باقی ہمیں ووٹ فلاں جرنل ، فلاں کرنل دیگا۔ اگر ان باتوں میں کوئی صداقت ہے تو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ہماری غلط پالیسیوں کی بدولت پاکستان مشکل میں ہے ، قرض دار ہے اور سانس تک نہیں لے سکتا۔ پاکستان کی مثال ایسی ہے کہ ایک عمارت جواندر سے بالکل کھوکھلا ہوچکا ہے اور گرنے والا ہو خدانخواستہ ہم پر گر سکتا ہے۔ کوئٹہ شہر کو پشتونوں کا ایسا مرکز بنائینگے کہ یہاں تمام عوام کی عزت ، کاروبار محفوظ ہوگی۔ کوئٹہ شہر تاریخی طور پر پشتونوں کامسکن ہے۔ بے بنیاد بیانات پر کارکن کسی کے ساتھ غیرضروری بحث میں نہ پڑے اور نہ اپنا وقت ضائع کرے بلکہ اپنی توجہ انتخابی مہم پر مرکورز رکھیں۔ ہم کسی سے خیرات نہیں مانگتے اپنی وسائل پر اختیار چاہتے ہیں جو ہمارا بنیادی حق ہے اسلام اور پشتون روایات میں ہم حقدار ہیں اور حق پر ہےں۔ پیسوں کے ذریعے عوام کی ضمیر کو خریداجارہا ہے

عوام بھی ان سے پیسے بیشک لے لیں لیکن ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق دیں اور اپنی پارٹی پشتونخواملی عوامی پارٹی کو ووٹ دیں۔پارٹی اور عوام ہمت کرے تو ہم اپنے وطن سے تمام دشمنیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ پشتونخوامیپ ہی ہمارا سب کچھ ہے اور ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے۔ 8فروری کو غیور عوام اپنا قیمتی ووٹ پارٹی کو دیں اور انتخابی نشان ” درخت “ پر اپنا مہر لگائیں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین-266 NAچمن قلعہ عبداللہ اور NA-263کوئٹہ IIسے پارٹی کے نامزد امیدوار محمود خان اچکزئی نے پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام حلقہ پی بی 40میں پشتون باغ حاجی شائستہ خان پانیزئی کی رہائش گاہ پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے پارٹی کے صوبائی صدر پی بی 41کے امیدوار عبدالقہار خان ودان اور حلقہ پی بی40کے امیدوار اختر محمد خروٹی نے بھی خطاب کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی وہ واحد پارٹی ہے جو چاہتی ہے کہ پشتون قوم کے تمام قبائل ، تمام فریق ایک کرکے پھر ان سب کے مشاورت ، ان کے تجربوں کی روشنی میں پشتون قوم کی سوئی ہوئی قسمت کو جگائیں۔ پشتون قوم کو عرصہ دراز سے مشکلات کا سامنا ہے اور آرام وسکون کی زندگی جینے نہیں دیا جارہا ہر تیس سال بعد جنگ مسلط کردی جاتی ہے۔ ہم نے کوئٹہ شہر کو پشتونوں کیلئے ایک ایسے مرکز /سنگر میں بدلنا ہے کہ یہ شہر ہر پشتون کیلئے عزت کا ایک مرکز ہو ، پشتون کیلئے باعث سکون اور یہاں عزت محفوظ ہو۔ کوئٹہ میں ہم سب اگر ہمت کریں ایک سرے سے دوسرے سرے کچلاغ تک اگر صحیح مردم شماری کروائیں تو یہاں کم از کم 15صوبائی اسمبلی کی نشستیں اور 4سے 5قومی اسمبلی کی نشستیں لیں سکتے ہیں جس میں پشتون قوم کے تمام قبیلے حصہ دار ہوسکتے ہیں۔ کوئٹہ کو 4ٹا?ن میں تقسیم کرنے جارہے ہیں یہ ٹا?ن اگر جمہوری طریقے سے بنتے ہیں

تو اس میں 3ٹا?ن مکمل طور پر ہمارے جبکہ ایک ٹا?ن میں ہم پشتون حصہ دار ہوسکتے ہیں۔کاسی ، کاکڑ ،الکوزئی ، ترہ کئی ، خروٹی ، سلیمانخیل تمام قبیلے یہاں امن وسکون وخوشی سے زندگی گزاریں گے ہم نے کوئٹہ کو پشتونوں کیلئے ایسے شہر بنانا ہے جس میں زندگی کی تمام سہولیات میسر ہو۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو لوگ بے بنیاد اخباری بیانات جاری کرتے ہیں اور نامناسب باتیں کرتے ہیں انہیں جواب نہ دیں یہ صرف وقت ضائع کرنا ہے۔ میاںغنڈی سے لیکر کچلاغ تک کوئٹہ انگریز کے دور سے کاسی پشتون کی ملکیت رہی ہے اور کاسی اس زمین کا مالک ہے انتقال کاسی کے پاس ہے۔ کانک رئیسانی سے لیکر سرہ غوڑگئی اور ہنہ اوڑک تک یہ پہاڑ اور زمین بازئی پشتون قبیلے کی ملکیت ہے اور بائیں طرف جو زمین ہے وہ شاہ ولی کے بیٹوں غفور درانی کی ملکیت ہےں شاہ ولی خان احمد شاہ بابا کے وقت کے وزیر اعظم تھے۔ ہنہ اوڑک سے پھر زڑخو وغیرہ تک یہ زمین یاسین زئی قبیلے کی ملکیت ہےں ایک فٹ زمین تک یہاں دوسرے قبیلوں واقوام کی نہیں ہمارے زمینوں کے بزگر شاہوانی اور لہڑی تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی اختیار خطرناک چیز ہے ، جو قومیں حکمران نہیں ہوتیں وہ پھر اپنی سیاسی پارٹیاں تشکیل دیتی ہیں۔ کوئٹہ میں پشتونوں کے تمام کاروباری کی حفاظت پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پشتونوں کے یہ جوان کرینگے ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں کرتے اور پشتونوں کے دیگر قبیلوں کی نسبت اچکزئی قبیلہ کوئٹہ کے قریب تھا

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

ہمارے لوگوں کا آمدروفت زیادہ تھا ہمارے مشران کاروباری لوگ تھے وزیر محمد روڈ سے آگے نہیں جاسکتے تھے۔ دیگر غریب پشتون کوئٹہ سے سیدھا پنجاب اور کراچی کی طرف جاتے اور وہاں محنت مزدوری کرتے یہاں وہ رہ نہیں سکتے تھے۔ لیکن آج پشتون کوئٹہ میں آزاد گھوم رہا ہے ہم نے ہمت کرنا ہوگی اور ایک دوسرے کا ہاتھ باندھنا ہوگا۔ ہمارے مشران نے کچھ اس طرح ہماری زمینوں کی تقسیم کی ہے کہ ایک انچ زمین اور ایک پتھر تک لاوارث نہیں۔ صرف ہمیں اپنے وطن کے واک واختیار کو حاصل کرنا ہوگا حکمرانی /بادشاہی کو کہتے ہیں کہ یہ آسمان سے نازل نہیں ہوگی اپنے وطن کے واک واختیار حاصل کرنے کو بادشاہی کہتے ہیں۔ آپ کے گھر اور زمین کے جب آپ مالک ہوں گے تب ہی آپ سیال ہوں گے۔ ہم کسی سے خیرات نہیں مانگتے اپنی وسائل پر اختیار چاہتے ہیں جو ہمارا بنیادی حق ہے اسلام اور پشتون روایات میں ہم حقدار ہیں اور حق پر ہے۔ انتخابات کے دن ہیں جرنیل کہتے ہیں کہ ہم نے الیکشن میں مداخلت نہیں کرنی ہے یہ اچھی بات ہے ہماری غلط پالیسیوں کی بدولت پاکستان مشکل میں ہے ، قرض دار ہے اور سانس تک نہیں لے سکتا۔ پاکستان کی مثال ایسی ہے کہ ایک عمارت جواندر سے بالکل کھوکھلا ہوچکا ہے اور گرنے والا ہو خدانخواستہ ہم پر گر سکتا ہے۔ ہمارے لوگ رشوت اور حرام سے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کردیتے ہیں اور پھر ان پر آیت لکھ دیتے ہیں ”ھذا من فضل ربی“ جو کہ آیت کی توہین ہے ، قرآن پاک کی توہین ہے یعینی اللہ کو دھوکا دے کر ہم کیسے مطمئن ہوسکتے ہیں اور ہم دھوکا دینے والے ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کیا آپ نے اس کو دیکھا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے ، پس وہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا “۔ ہماری زندگی یتیموں ومسکینوں کے مال کھانے پر ہے آج کل الیکشن میں لوگ کھڑے ہیں اور بھرملا کہتے ہیں کہ مجھے فلانے جنرل ، فلانے کرنل نے وعدہ کیا ہے کہ آپ کو الیکشن میں کامیاب کرا?ں گا۔ پہلے وقتوں میں لوگ جاسوسی ، مخبری پر شرماتے تھے آج فخریہ کہتے ہیں کہ میں فلانے ادارے کا بندہ ہوں اور میری جیب میں کارڈ ہے۔ لعنت ہو آپ پر اور آپ کے افسر پر۔ یتیم ومسکین کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی جب کہ ہمارے لوگ آفیسروں کو تحفوں میں گاڑیاں دیتے ہیں اور پھر فخریہ کہتے ہیں۔ آج کل کچھ لوگ نکلے ہیں کہ لوگوں کو کھانا دے دونگا اور ووٹ حاصل کروں گا یہ عوام کی توہین ہے۔پیسوں کے ذریعے عوام کی ضمیر کو خریداجارہا ہے عوام بھی ان سے پیسے بیشک لے لیں لیکن ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق دیں اور اپنی پارٹی پشتونخواملی عوامی پارٹی کو ووٹ دیں۔ اور پھر اسے جواب دیں کہ آپ نے مجھے مال مویشی سمجھ رکھا ہے جو میری قیمت دے رہے ہو آپ نے میرے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا میرے ساتھ آپ نے حساب کتاب کرنا ہوگا۔

اگر ہم آج اس اجتماع میں بیٹھے لوگ ہمت کریں تو ہم اپنے وطن سے تمام دشمنیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں ، سادہ سا اصول ہے کہ جو بات آپ کو بری لگے وہ بات دوسروں کو مت کہیں اگر آپ دوسری کی ما?ں ، بہنوں کو گالیاں دینگے تو یقینا نقصان تو ہوگا۔ ہم سب انسان ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ کون کس راہ پر چل رہا ہے ایسا نہیں کرنا کہ ہمارا عزیز ، قریب اگر ملامت ہو تب بھی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے نہیں ہم نے ایسا نہیں کرنا۔ میں اگر میرا بیٹا ، بھائی اور یا رشتہ دار اگر کسی پر ملامت ہو اور میں نے پھر بھی اس کا ساتھ دیا تو میں پشتو چھوڑ دونگا۔ ہم ایک زور آور ، طاقتور قوم ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے کوئٹہ میں جمع کیا ہے کوئٹہ کو ہم نے مرکز بنانا ہے یہاں پھر پشتون خوش ہوگا۔ یہاں سے پشتونوں کی آبادی وخوشحالی کیلئے لشکر نکلیں گے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی پشتونوں کیلئے ماں کی حیثیت رکھتی ہے جیسے بچے ماں کی گود میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کا شعر ہے کہ ’فطرت کے قوانین کی کرتا ہے نگہبانی۔ یا مرد کوہستانی یا مرد صحرائی‘ ہم نے دشمنی ، بدی کو ختم کرنا ہوگا آپس میں مل بیٹھ کر اپنے مسائل کو ختم کرنا ہوگا۔ آخر میں ووٹ پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دینے ہیں یہ عزت کی پارٹی ہے یہی ہمارا سب کچھ ہیں اور ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.