گوادر: گرینڈ ہیلتھ الائنس کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

0

رپورٹ سلیمان ہاشم

گوادر ، گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کا اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ مرد و خواتین ملازمین کی کثیر تعداد میں شرکت۔

بلوچستان کے مختلف سرکاری اداروں میں ملازمین گیارہ مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں ، صحت کے تمام ملازمین فاقہ کشی کا شکار ہیں حکومت بلوچستان کے اعلان کردہ ہسپتالوں کے نجکاری اور محکمہ صحت میں عارضی بنیادوں پر گریڈ 1 سے 15 تک کو بھرتی کرنا محکمہ صحت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

بلوچستان میں لواحقین کوٹہ کو بحال کیا جائے ۔ مقررین کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب ۔

مظاہرین کی شدید نعرہ بازی ۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کی اپیل پر اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن بلوچستان نے گوادر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر مرد و خواتین پیرامیڈیکس نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

احتجاجی مظاہرین اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے مختلف نعروں پر درج پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر حاجی قادر جان بلوچ ، نصیر نگوری ، یونس حسین ، خالد محمد ، ندیم بلوچ دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں کام کرنے والے تمام ملازمین اپنے ادارے کے لیے ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں دن ہو یا رات وہ پولیو مہم یا قومی مہم میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی خدمت پیش کرتے ہیں۔

لیکن دکھ کی بات یہ ہے جب مرعات کی بات ہوتی ہے تو ان ملازمین کو دیگر تمام ملازمین سے پیچھے دھکیل کر انھیں فاقہ کشی پر مجبور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے ہر دور میں محکمہ صحت کے ملازمین کے ساتھ دوہرا معیار رکھا ہے ان کی خدمات کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اب حالت یہ ہے کہ حکومت ان کو ترقی یا مراعات دینے کے بجائے بلوچستان کے ہسپتالوں کو نج کاری میں دے کر محکمہ صحت میں عارضی بنیادوں پر گریڈ 1 سے 15 تک ملازمین بھرتی کرکے محکمہ صحت کو تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس نے محکمہ صحت کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے اپنے اسٹک ہولڈرز کی حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں کئیے جاتے ہم آئین کے مطابق اپنا احتجاج جاری رکھیں گے احتجاجی مظاہرین اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت میں نجکاری کے عمل کو فورا روکا جائے۔

سروس اسٹرکچر کو100 فیصد پر یقینی بنایا جائے اور پرسنٹیج کو ختم کیا جائے ۔

بلوچستان کے تمام ملازمین اور پیرامیڈیکس کو وفاق ،خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی مانند اپ گریڈ اور ری اسٹرکچر پر کیا جائے۔

بلوجستان کے پیرامیڈیکس کو گریڈ 1 سے 16 تک دیگر صوبوں کی مانند بنیادی تنخواہوں کے ہیلتھ پر پروفیشنل الاؤنس اور رسک الاؤنس دیا جائے۔

بلوچستان محکمہ صحت کے کلاس فور کے ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے ،پی پی ایچ آئی کے گریڈ 1سے 9 تک تمام ملازمین کو مستقل کیا جائے۔

نیا سروس رول دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کا نمائندہ شامل کیا جائے۔

بلوچستان کے تمام ویکسینیٹرز کو بنیادی پے اسکیل 9 ، بی،سی، جی ٹیکنیشن 12 اور کولڈ چین ٹیکنیشن 14 پر اپ گریڈ کیا جائے۔

بلوچستان کے تمام اضلاع و یونٹ میں DHO اور ایم ،ایس ڈی، ایس، ایم صاحبان کو پابند کیا جائے کہ وہ ناجائز انتقامی کارروائیاں بند کریں ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.