پتھروں سے نشانہ بازی کا صدیوں پرانا منفرد کھیل ’’سنگرگ‘‘

رپورٹ: مرتضی زیب زہری

کوئٹہ میں مقیم ہزارہ برادری کے لوگ آج بھی پتھر زمانے کا ایک کھیل “سنگرگ” کھیلتے ہیں۔

یہ کھیل مری آباد کے پہاڑوں کے دامن پر کھیلا جاتا ہے جو آج بحی ہزارہ قوم کو کا پسندہ مشغلہ ہے ۔

ہر جمعہ کے روز کوہ مردار کے دامن پر ہزارہ کمیونٹی کے بوڑھے اور جوان جمع ہوتے ہیں
’’سنگرگ ‘‘فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب پتھرسے نشانہ بازی کرنا۔۔ ۔ مقامی افراد کے مطابق 1814ء میں جب ہزارہ قوم افغانستان سے ہجرت کر کے کوئٹہ آئی تووہ تب سے یہاں پہاڑ کے دامن میں یہ کھیل کھیل رہے ہیں،

خادم علی نے یہ کھیل اپنے بزرگوں سے سیکھا ہےانہوں نے بلوچستان 24 ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس کھیل میں 10کھیلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں ہوتی ہیں ۔۔۔یہ کھیلاڑی لکڑی کے چار انچ والے ٹکڑے پر پتھر سے نشانہ بازی کرتے ہیں ۔۔ ۔ اگر نشانہ ٹھیک لکڑی پر لگے تو ٹیم کو دو پوائنٹ ملتے ہیں اور اگر نشانہ لگڑی کے قریب رہا تو ایک پوائنٹ ۔۔۔۔اس کا فیصلہ ایک ریفری کرتا ہے ۔

’’اس کھیل میں پانچ کھیلاڑی ایک طرف ہوتے اور پانچ دوسری جانب سے ، یہ کھیلاڑی لکڑی کے ایک ٹکڑے پر نشانہ بازی کرتے ہیں جس کو مقامی زبان میں قرقہ کہا جاتا ہے ، جس ٹیم نے پہلے دس پوائنٹ حاصل کئے وہ بازی لے جاتی ہے ‘‘

’’اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں جتنے بھی بزرگ لوگ ہیں جو کام کاج نہیں کرسکتے اور جو صبح سے شام تک گھر میں بھی تنگ آ جاتے ہیں ایسے بزرگوں کے لیے ہر شام یہ ٹھکانہ ہوتا ہے اور یہاں انکو ایک بہترین ماحول ملتا ہے یہاں لوگ مغرب تک یہ کھیل دیکھتے ہیں ‘‘

’’ سنگرگ‘‘ کے پرانے کھیلاڑیوں کے مطابق اس کھیل میں جسمانی ورزش کا بھی ایک بہت بڑا عنصر شامل ہے اس کے کھیلاڑی ہر وقت تندرست اور توانا رہتے ہیں۔

پتھر وں کی نشانہ بازی کا یہ کھیل افغانستان او ر پاکستان میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ آسٹریلیا میں آباد ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کے علاوہ دنیا میں اور کئی نہیں ہے کھیلا جاتا ہزارہ کمیونٹی اس کھیل کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں