بلوچستان کے آئینی حقوق بہت عزیز ہیں اس کی پاسداری ہم ہمیشہ سے کر رہے ہیں : چیف جسٹس آف پاکستان

0

کوئٹہ ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سےدیے گئے عشائیے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ عوام کی بنیادی حقوق کی محافظ ہے اور جب بھی عدل و انصاف کا متقاضی کوئی عوامی و آئینی مسئلہ ہوتا ہے اسکا سدباب کرتےہیں، انہوں نے کہا کہ بار اور بینچ کو ایک ادارہ سمجھتا ہوں اور ان کے جائز مطالبات کو طے شدہ اصولوں کے مطابق عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ عدالت اپنا کام پوری طرح آزادانہ انداز میں سر انجام دے رہی ہے حیات بلوچ کا واقعہ افسوسناک ہے اور اس معاملے میں معلومات حاصل کریں گے، انہوں نے کہا کہ انرولمنٹ کی جو درخواستیں سپریم کورٹ کی انرولمنٹ کمیٹی کے سپرد ہے ان پر جلد از جلد فیصلہ کریں گے جبکہ اس پر پیشرفت کورونا وائرس کی وجہ سے تعطل کا شکار تھی، مقدمات کی تاخیر سپریم کورٹ میں بہت جلد کم ہو جائے گی جب کہ اس مد میں وکلاءکا تعاون ناگزیر ہے،چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے ہم کیسزز سنتے ہیں اورضروری نوعیت کے کیسزز کو اسی وقت نمٹا دیا جاتاہے اسی تناظر میں کوئٹہ کے کئی کیسزز بہت جلد نمٹا دئیے جائیں گے، مسنگ پرسنز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ عوام کی بنیادی حقوق کا محافظ ہے جبکہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے اس معاملے پر کمیشن کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ بازیاب بھی ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان کے لوگوں کی تضحیک کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرنے کریں گے اور اگر لوگوں کی تضحیک ہوتی ہے تو میں اس کی مزمت کرتا ہوں اور اس طرح کے معاملات پر جو بھی عدالتی معاملات ہوں گے اس پر عمل درآمد کروائیں گے، بلوچستان میں پانی کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں 100ڈیم پروجیکٹ پر کام جاری ہے جن میں سے اب تک 40 ڈیم بن چکے ہیں جبکہ پانچ بڑے ڈیم بن رہے ہیں جس سے بلوچستان میں پانی کے مسئلے کا حل کسی حد تک ممکن ہو سکے گا،جبکہ گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے فلٹریشن پلانٹس کو بھی فعال کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جس سے گوادر کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہوسکے گا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے آئینی حقوق بہت عزیز ہیں اور اس کی پاسداری ہم ہمیشہ سے کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہائی کورٹ آئینی عدالت ہے ہم فیصلے بھی کرتے ہیں تو دوسری جانب آئین کی پاسداری بھی کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں ہوگا جبکہ آئین اور قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، تقریب سے ممبر بار کونسل کامران مرتضی نے خطاب کرتے ہوئے جوڈیشری سے متعلق مسائل کے بارے میں آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آرٹیکل 4، 9 اور 14 کی پاسداری عوام کی اولین خواہش ہے جبکہ صوبے میں پانی کا مسلہ بھی اولین ضرورت ہے۔ تقریب میں ججز ہائی کورٹ، پراسیکیوٹر جنرل، سینئر وکلائ، کونسل کے ممبران بار کونسل، ایڈووکیٹ جنرل، رجسٹراربلوچستان ہائی کورٹ، بلوچستان کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وکلا اور ماتحت عدلیہ کے جوڈیشل افسران نے شرکت کی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: