کوئٹہ کی یاسمین کو غلط آپریشن کے ذریعے ہمیشہ کیلئے معذور کرنے کا ذمہ دار کون ؟

0

رپورٹ ۔۔۔اربا ز شاہ

مسیحائی ایک مقدس فریضہ ہے ڈاکٹرز بھی مسیحائی کا کام کرتے ہیں تاہم ان میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی لاپرواہی کسی کوہمیشہ کاغم دیدیتی ہے ۔ہمارے معاشرے میں بے حسی بڑھ رہی ہے اوربعض ڈاکٹرز بھی اپنے کام سے مخلص نہیں

جس کے باعث روزانہ ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ کسی مریض کے پیٹ میں یہ رہ گیا کسی مریض کا غلط آپریشن کردیا گیا ایسا ہی ایک الخراش اور دلدوز واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا جو کچھ وقت ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بنی اور صوبائی وزیر صحت نے بھی نوٹس لیا پھر خاموشی چھا گئی اور مریض اور اس کے اہلخانہ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا

یہ واقعہ فروری دو ہزار سترہ(2017) کو پیش آیا سلیمان خلجی کوبیٹی کو درد محسوس ہوا اور اس نے گھر والوں کو بتایا جس پر گھر والوں نے یاسمین کو بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی اسپتال ) لایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے مرض کی تشخیص اپنڈکس کی اور کہا کہ اسے فوری آپریشن کرنا پڑیگا

زندہ بدستہ مردہ کے مصداق گھر والوں نے ڈاکٹروں کے کہنے پر آپریشن کی ہامی بھرلی اور بی ایم سی اسپتال کے دو ڈاکٹروں نے یاسمین کاآپریشن کیا لیکن یہ آپریشن اس کیلئے زندگی بھر کا روگ بن گئی

آپریشن کے کچھ عرصے بعد یاسمین کو کسی اور مسئلے نے آگھیرا اور پھر اس کے والد نے ڈاکٹروں کے پاس لے جانا شروع کردیا اور پھر ان پر وہ انکشاف ہوا جس نے ان کے اوسان خطا کردئیے

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

ڈاکٹروں نے معائنے اور ٹیسٹ کے بعد سلیمان خلجی کو بتایا کہ اس کے بیٹی کا آپریشن غلط ہوا اور ڈاکٹروں نے دوران آپریشن اس کے یورین ( پیشاب کی نالی ) کاٹ دی جس کے باعث اسے یورین کیلئے پائپ لگانا پڑیگی وہ دن آج کا دن کہ یاسمین کہیں کی نہیں رہی اور ایک زندہ لاش بن گئی

یاسمین کے والد سلیمان خلجی نے اپنی بیٹی کی بری حالت کرنے کا واقعہ بلوچستان 24 کویوں بتایا “میری بیٹی 15 سال کی تھی جب اسے ا پینڈکس کا مرض لاحق ہوا۔یہ بیماری عمومی طور پر اکثر لوگوں کو ہوتی ہے۔میں نے اس بیماری کے علاج کی غرض سے اپنی بیٹی یاسمین کو بولان میڈیکل اسپتال میں داخل کروایا۔فروری دوہزار سترہ میں بی ایم سی کے دو ڈاکٹروں نے میری بیٹی کا آپریشن کیا۔آپریشن کے بعدا پینڈکس تو نکال لیا گیا مگر میری بیٹی کی یورین کی نلی ان دو ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور نااہلی کی وجہ سے کٹ گئی۔میرے خاندان نے اسی وقت بولان میڈیکل اسپتال میں او پی ڈی کے سامنے شدید احتجاج کیا

مریضہ یاسمین کے والد سلیمان خلجی

مگر ایم ایس اور انتظامیہ نے ہماری کوئی نہیں سنی

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کا آپریشن کرنے والے نااہل ڈاکٹر علاؤالدین کاکڑ نے ہمارے شدید احتجاج کرنے پر دھمکی امیز لہجے میں کہا کہ آپ جو کر سکتے ہو کرو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
یاسمین کے والد سلیمان کا مزید کہنا تھا کہ”اب ان کی بیٹی کسی گھر کی نہیں رہی ان کی یورین مس بیلنس ہوکر اب ایک انجکشن کے ذریعے پیٹ کے راستے سے لائن سے ہوتی ہے۔

17 سالہ یاسمین کے والد سلیمان خلجی کے بقول”انہوں نے یاسمین کے علاج پر ساڑھے تیرہ لاکھ روپے اپنے جیب سے خرچ کیے۔میں نے یاسمین کو آغاخان ہسپتال کراچی سے چیک کروایا۔سی ایم ایچ کوئٹہ میں علاج کروایا مگر میر بیٹی کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.