"کوئٹہ کی بدقسمتی اور کھڈے والا چاچا”

 

 تحریر: مرتضیٰ زیب زہری

انڈین فلم کٹّے میٹھے کے ایک منظر میں اکشے کمار اپنے ورکر کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ سڑک کے درمیان کم اور کناروں پر زیادہ مال ڈالو کیونکہ معائنہ کرنے والے صرف سائیڈیں دیکھتے ہیں۔

وہ ایک فلمی جملہ تھا مگر آج یہ سوال حقیقت کی صورت ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبے شہریوں کے لیے آسانی سے زیادہ آزمائش بن چکے ہیں۔

شہر کی سڑکیں جگہ جگہ سے اکھاڑی جاتی ہیں۔

گہرے گڑھے کھود دیے جاتے ہیں اور کئی روز تک کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ نہ مناسب حفاظتی باڑ دکھائی دیتی ہے نہ وارننگ بورڈ اور نہ رات کے وقت روشنی کا خاطر خواہ انتظام۔

بارش ہو تو یہی کھڈے حادثات کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس منصوبے کی نگرانی کرنے والی شخصیت کوئی نئی نہیں۔ یہ وہی تجربہ کار افسر ہیں جو ماضی میں تربت میں ترقیاتی کاموں سے منسلک رہے۔

اس کے بعد انہوں نے کوئٹہ میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کے دور میں اسی نوعیت کا منصوبہ سنبھالا۔

پھر عبوری اور بعد کے ادوار میں بھی اہم ترقیاتی اسکیموں کا حصہ رہے اور موجودہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے دور میں بھی سرگرم ہیں۔

اس سے قبل وہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں بھی نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 9,065

سوال یہ نہیں کہ تجربہ برا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبے میں جدید تعلیم یافتہ انجینئرز کی کمی ہے۔

کیا نئے خیالات اور جدید شہری منصوبہ بندی کے ماہرین دستیاب نہیں۔ یا پھر معاملہ صرف اعتماد کا ہے کہ ہر دور حکومت میں وہی چہرہ دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔

عوام میں یہ چہ مگوئیاں عام ہیں کہ آخر اس تسلسل کی وجہ کیا ہے۔

دنیا بھر میں انجینئرنگ کے اصول واضح ہیں۔ تعمیراتی مقام کے گرد حفاظتی بیریئر لگانا لازمی سمجھا جاتا ہے۔

مرحلہ وار تعمیر کی جاتی ہے تاکہ ایک حصہ مکمل ہو تو دوسرا شروع کیا جائے۔

پاکستان میں بھی پاکستان انجینئرنگ کونسل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ضابطے عوامی تحفظ کو بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔

رسک اسیسمنٹ اور سائٹ سیفٹی پلان کسی بھی منصوبے کی بنیاد ہوتے ہیں۔

کوئٹہ کے شہری آج یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر اصول موجود ہیں تو ان پر مکمل عمل کیوں نظر نہیں آتا۔

ترقی وقتی تکلیف لا سکتی ہے مگر مستقل خطرہ نہیں بن سکتی۔ شہر کی سڑکیں اگر بار بار زخمی ہوں تو اعتماد بھی زخمی ہوتا ہے۔

چچا محض ایک استعارہ ہے۔ اصل سوال نظام سے ہے۔

کیا کوئٹہ کو جدید اور محفوظ ترقی ملے گی یا کھڈوں کی کہانی ہی اس کی پہچان بنے گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.