بلوچستان،سعودی وفد کاگوادر کادورہ ،سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ

0

نیوز ڈیسک
سی پیک روٹ پر 9 اکنامک فری زون قائم کئے جارہے ہیں بلوچستان خصوصاً سیندک ریکوڈک کے معدنی وسائل کو گوادر سے منسلک کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں

600 کلومیٹر تک سڑک تعمیر کیا جارہا ہے اسی روٹ کو افغانستان کے راستے ترکمنستان تک لے جایا جائیگا پسنی کے علاقے میں آئل ریفائنری کا قیام بھی گوادر کی ترقی سے منسلک ہے گوادر میں

گوادر:چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین جمالدینی سعودی عرب کے وفد کے سربراہ احمدحمدالغامدی کوکشتی کاماڈل پیش کررہے ہیں

سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں

سعودی عرب کا ایک 14 رکنی وفد سعودی عرب کے منسٹری آف انرجی اینڈ منرل ریسورس کے ایڈوائزر احمد حمدالغامدی کی قیادت میں گوادر پہنچا

گوادر ایئرپورٹ پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی چودھری اعجاز علی چیئرمین گوادر بندرگاہ دوستین خان جمالدینی کمشنر مکران ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن (ر )محمد وسیم ادارہ ترقیات گوادر کے ڈی جی ڈاکٹر سجاد حسین بلوچ سمیت اعلیٰ حکام نے استقبال کیا سعودی عرب کے وفد گوادر

گوادر:ادارہ ترقیات گوادر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد حسین بلوچ سعودی عرب چودہ رکنی وفد کو گوادر ماسٹر پلان اور سی پیک منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دے رہے ہیں
یہ بھی پڑھیں
1 of 8,717

بندرگاہ کا دورہ کیا

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے پورٹ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر بندرگاہ سے ہونے والی تجارت پر حکومت پاکستان نے ٹیکس کی چھوٹ دی ہے

چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمیں ژنگ باؤ ژونگ نے سی پیک منصوبوں فری زون کے متعلق وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چائنہ گرانٹ سے گوادر میں بجلی گھر ٹیکنیکل انسٹیوٹ تین سو بیڈ ہسپتال ڈی سالینیشن پلانٹ ایئر پورٹ کے ساتھ ماہی گیری کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی ڈاکٹر سجادحسین نے گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں سمیت سی پیک منصوبوں پر پیش رفت اور گوادر ماسٹر پلان سے متعلق وفد کو تفصیلی بریفنگ دی

سعودی وفد نے گوادر میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیاپاکستانی حکام نے وفد کو بتایا کہ آئل سٹی سمیت گوادر اورسی پیک پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔

بلوچستان میں موٹرویز اور ریلوے نیٹ ورک کی نئی تعمیرات میں سعودی کمپنیوں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔بریفنگ میں ان شعبوں کی خاص طور پر نشاندہی بھی کی گئی جس میں سعودی عرب کی سرمایا کاری ہو سکتی ہے۔

سعودی وفد کو علاقے میں سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور سیکیورٹی کے انتظامات سے بھی آگاہ کیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.