بانی پی ٹی آئی نے اٹک جیل میں ڈیل کی آفر دیے جانے کا دعویٰ کردیا

0

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اٹک جیل میں قید کے دوران انہیں ڈیل آفر کی گئی تھی۔

بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ڈیل کی  یہ آفر مجھے اس وقت کی گئی تھی جب میں اٹک جیل میں قید تھا، مجھے آفر دی گئی تھی کہ 3 سال کیلئے خاموش ہو کر پیچھے ہٹ جاؤں اور بنی گالا جاکر بیٹھ جاؤں۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہوتا ہے، جنرل فیض کو آرمی چیف لگانا تو میرے ذہن میں ہی نہیں تھا

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے سائفر کیس میں 342 کے بیان پر دستحط نہیں کیا، تو اس بیان کو فیصلے میں کیسے لگایا گیا؟ مطلب ہے اس کو ایڈیٹ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سے پوچھا تک نہیں گیا، انہیں 6 گھنٹے بٹھایا اور بنی گالا لے گئے، ڈیل ہوتی تو کیا وہ چل کر جیل آتی؟ بشریٰ بی بی کو بنی گالا میں ایک کمرہ تک محدود کرکے، کمرے کے شیشے تک بند کر کے اندھیرا کر دیا گیا، ادھر سے تو جیل میں بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس دن زرداری سے کہوں گا مجھے بچا لو وہ قیامت کا دن ہوگا۔

شیخ رشید کی طرف سے شہریار ریاض سے 3 کروڑ روپے لیکر ٹکٹ دینے کے سوال پر بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کچھ نہیں کہوں گا

بانی پی ٹی آئی نے شیخ ریحان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جنونی کارکن تھے، بہت افسوس ہوا، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ملتوی اس لیے کیے ہیں کیونکہ ہمارے لوگ ابھی چھپے ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 14،14 سال قید بامشقت کی سزا اور ایک ارب سے زائد کا جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی گرفتاری دینے خود اڈیالا جیل پہنچی تھیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ بنی گالا منتقل کردیاگیا اور ان کیلئے ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

 اس کے علاوہ عدت کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جو آج سنایا جائے گا

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.