عابد علی عابد.
بلوچستان جیسے جغرافیائی طور پر وسیع اور موسمیاتی خطرات سے دوچار صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ہمیشہ حکومتی .
کارکردگی کا اہم پیمانہ رہی ہے۔

حالیہ عرصے میں Provincial Disaster Management Authority Balochistan کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ادارہ روایتی ردِعمل سے نکل کر پیشگی تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور مربوط رابطہ کاری کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
اس تبدیلی کے مرکز میں ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان غوریزئی کی قیادت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جہانزیب خان غوریزئی کے دور میں ارلی وارننگ سسٹم کو فعال بنایا گیا اور سیلابی خطرات کی پیشگی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ امیجری کا استعمال شروع کیا گیا۔
مون سون سیزن سے قبل جامع پری مون سون پلاننگ مکمل کی گئی اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا فیصلہ بھی انہی کی انتظامی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

جہانزیب خان غوریزئی کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کوآرڈینیشن میکانزم کو مضبوط کیا گیا، ضلعی سطح پر فوکل پرسن مقرر کیے گئے اور حساس اضلاع میں کنٹرول روم قائم کیے گئے۔
برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور طوفانی بارشوں کے دوران بروقت الرٹس اور فوری ریسکیو رسپانس نے ادارے کی استعداد کار میں اضافے کی نشاندہی کی۔
ریلیف سرگرمیوں میں بھی جہانزیب خان غوریزئی کی قیادت نمایاں رہی۔
سیلاب متاثرین میں خیموں کی تقسیم کا عمل تیز کیا گیا، راشن پیکجز کی شفاف تقسیم کے لیے باقاعدہ نظام متعارف کرایا گیا اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔

دور دراز اضلاع تک ریلیف سامان کی بروقت ترسیل اور طبی امدادی کیمپس کے قیام میں معاونت کو بھی ان کے دور کی اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔
بشکیک کے خونی فسادات کے دوران جب پاکستانی طالب علموں کے لیے زندگی کی راہیں مسدود ہو رہی تھیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی ایک سرکاری افسر کے بجائے ایک شفیق سرپرست بن کر سامنے آئے۔
انہوں نے صرف دفتر سے احکامات جاری نہیں کیے بلکہ خود میدانِ عمل میں اتر کر انخلاء کی کمان سنبھالی۔
ویڈیو کے مناظر گواہ ہیں کہ کس طرح وہ جہاز کے اندر ہر طالب علم کو ذاتی طور پر تسلی دے رہے تھے اور اپنی مسکراہٹ سے ان کے چہروں پر چھائے خوف کو ختم کر رہے تھے۔

ان کا یہ جملہ کہ "میں آپ کی بحفاظت واپسی کی گارنٹی دیتا ہوں”، سینکڑوں پریشان حال خاندانوں کے لیے زندگی کی نوید ثابت ہوا۔
جہانزیب خان کی اس پیشہ ورانہ مہارت نے ثابت کیا کہ بحران میں اصل لیڈر وہی ہے جو اپنے لوگوں کے درمیان کھڑا ہو۔
انہوں نے نہ صرف تمام لاجسٹک رکاوٹیں دور کیں بلکہ انخلاء کے دوران بچوں کے ساتھ خوش گپیوں کے ذریعے اس صدمے (Trauma) کو بھی کم کیا جو وہ کرغزستان میں جھیل کر آئے تھے۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کا یہ ریسکیو آپریشن محض ایک ڈیوٹی نہیں، بلکہ جہانزیب خان کی قیادت میں انسانیت کی خدمت کی ایک ایسی مثال تھی جس نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کر دیا۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے جہانزیب خان غوریزئی نے ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا، ڈیزاسٹر ڈیٹا کلیکشن کا مربوط نظام بنایا اور جدید آئی ٹی سسٹم کے نفاذ کو یقینی بنایا۔
فیلڈ افسران کی کارکردگی مانیٹرنگ، شفاف رپورٹنگ اور عوامی شکایات کے ازالے کے مؤثر میکنزم نے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔
کمیونٹی سطح پر بھی اقدامات دیکھنے میں آئے۔
جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایت پر اسکولوں میں ڈیزاسٹر سیفٹی پروگرام متعارف کرایا گیا، رضاکاروں کی تربیت کے لیے ورکشاپس منعقد ہوئیں اور سول ڈیفنس و لیویز کے ساتھ مشترکہ مشقیں کروائی گئیں۔
خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی ریلیف اقدامات اور کیمپس میں سینی ٹیشن سہولیات کی بہتری کو بھی ان کی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں سے تکنیکی تعاون کا حصول، ڈونر ایجنسیز کے ساتھ شراکت داری کا فروغ اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی پر تیز عملدرآمد بھی جہانزیب خان غوریزئی کی ترجیحات میں شامل رہا۔
حساس علاقوں کی نقشہ بندی، خطرناک عمارتوں کی نشاندہی اور فلڈ ریلیف اسٹاک کی پیشگی ذخیرہ اندوزی جیسے اقدامات مستقبل کی تیاری کا عندیہ دیتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات صوبائی حکومت کے وسیع تر وژن کے تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں، جہاں میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
مبصرین کے مطابق، جہانزیب خان غوریزئی کی قیادت میں پی ڈی ایم اے بلوچستان نے ہنگامی ردِعمل سے آگے بڑھ کر ایک مربوط، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی بنیاد رکھنے کی سمت پیش رفت کی ہے۔
مجموعی طور پر، جہانزیب خان غوریزئی کے دور میں پی ڈی ایم اے بلوچستان کی کارکردگی کو صوبے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کی مضبوطی اور پیشہ ورانہ ارتقا کی ایک قابلِ ذکر مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔