صدیق مینگل کی بم دھماکے میں شہادت: بی یو جے نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا

0

صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خضدار میں پریس کلب کے صدر صدیق مینگل کی بم دھماکے میں شہادت کی مذمت کرتے ہوئے تین روز سوگ کااعلان اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے حکومت صحافیوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے موثراورعملی اقدامات اٹھائے جائیں،،میڈیا ہاؤس سے صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالنے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شعبہ صحافت سے وابستہ افراد بری طرح متاثر ہورہے ہیں ہمارامطالبہ ہے کہ مہنگائی کو مدنظررکھتے ہوئے صحافیوں کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرتے ہوئے بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔یہ بات بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد، پی ایف یو جے کے سینئر نائب صدر سلیم شاہد، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے فریدشاہوانی،جلیلہ ایڈووکیٹ،پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدرجہانگیر بلوچ،بی یو جے کے جنرل سیکرٹری عبدالشکور خان،سول سوسائٹی کے نمائندے بہرام لہڑی نے صحافت کے عالمی دن کے موقع پربی یو جے کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔مقررین نے کہاکہ بلوچستان میں حق و سچ کی آواز کو دبانے کیلئے ابتک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں 40سے زائد صحافیوں کوشہیدکیاجاچکاہے اور آج تک ان صحافیوں کے قاتل نہیں پکڑے گئے ظلم تو یہ ہے کہ کئی صحافیوں کے قتل کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئیں لیکن صحافی آج بھی تمام تر ظلم کے باوجود حق و سچ کی آواز بلندکر رہے ہیں اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کسی بھی صورت مرعوب نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ آج جہاں ہم عالمی یوم صحافت منارہے ہیں وہاں ہمارے پریس کلب خضدار کے صدر صدیق مینگل کو دہشت گردوں نے بم دھماکے میں شہیدکردیاجس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ہم واضح کردیناچاہتے ہیں کہ ایسی کاررائیوں سے صحافی مرعوب نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت صدیق مینگل کی شہادت میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے خضدار پریس کلب کے صدرکی شہادت پر 3روزہ سوگ اور پریس کلب پر سیاہ جھنڈے لہرانے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ 48گھنٹوں کے اندر اندر واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے عوام کے سامنے لایاجائے بصورت دیگر صحافی ملک گیرسخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے مالکان مالی بحران کا رونا روکر میڈیاورکرز کو نوکریوں سے فارغ کررہے ہیں تو دوسری طرف ملازمین کو کئی کئی ماہ تک تنخواہیں ادانہیں کی جاتی جس سے میڈیاسے وابستہ کارکن انتہائی پریشانی کی حالت میں زندگی گزارنے پرمجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیاہاؤسز کے مالکان فوری طور پر صحافیوں اوردیگر میڈیاورکرزکے معاشی قتل عام بند کرکے انکی تنخواہوں میں حالیہ مہنگائی کے تناسب سے یقینی بنائیں۔انہوں نے کہاکہ میڈیا ہاوسز پر بدترین سنسرشپ لگاکر حق وسچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ میڈیا پر سنسر شپ کو فوری طور پرختم کیاجائے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.