چین کی مدد :گوادر کےماہی گیر اب جدید سامان سے مچھلی کا شکار کرینگے

رپورٹ ۔بلوچستان24

کراچی میں متعین پیپلز ریپبلک آف چائناکے قونصلر جنرل  نے چین کی حکومت کی طرف سے گوادر کے ماہی گیروں کی مشکلات کے مد نظر انہیں دو لاکھ

امریکی ڈالر کا سامنا فراہم کردیا جس میں بوٹس کے انجن ،سولر ہینڈی لائٹس ،چھوٹے گھریلو سولر سسٹم اور شکار کیلئے جال وغیرہ شامل ہیں

 اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ چھوٹا سا تحفہ گوادر کے مقامی آبادی کو روزمرہ کے مشکلات سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوگا

دریں اثنا چین کی حکومت بلوچستان کیلئے مزید امداد دینے  کاارادہ رکھتا ہے بہ بشمول گوادر پورٹ ،آبادی ،سوشیو اکنامک ڈویلمپنٹ فیز آف سی پیک جس میں لوگوں کے مسائل کے حل کو مد نظر رکھا جائیگا

قونصل جنرل چائنا مسٹر وانگ یو نے یہ  سامان کراچی میں ایک سادہ تقریب کے دوران گوادر فشر مین الائنس کے چیئرمین خدائیداد واجو اور ماہی گیروں کے نمائندوں کے حوالے کیا اس موقع پر سردار شوکت پوپلزئی ،صدر بلوچستان اکنامک فورم اور گوادر شہر کے لیڈر اور سابقہ ناظم بابو گلاب بھی موجود تھے

قونصل جنرل نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات وعدوں کے مطابق مزید مستحکم ہونگے جو کامیابی کی طرف گامزن ہیں

ایک سال کے دوران یہ تعلقات ایک اسٹریٹجک پارٹنر شپ میں تبدیل ہوگئے ہیں جو دونوں ممالک کے  افراد کے درمیان اکنامک تعلقات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے

پاکسستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات سی پیک بلوچستان کے عوام کی معاشی پسماندگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا

لوگ معاشی ترقی دیکھیں گے اور معاشی ترقی کے ثمرات سے بھی مستفید ہونگے

بلوچستان کے قدرتی وسائل اور معاشی سیکٹرز کو دریافت کرینگے تاکہ بلوچستان کی اسٹریٹجک اور معاشی حیثیت کو اجاگر کیا جاسکے

سی پیک کے تحت نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے جو مستقبل میں جدید مہارت سے مستفید ہونگ

سی پیک کے تحت گوادر میں فزیکل انفراسٹرکچر کی ترقی دیکھیں گے

نیا انٹر نیشنل ایئرپورٹ ،نئی یونیورسٹی ،نیا ہسپتال مقامی لوگوں کو مستقبل قریب ہی فائدہ دیگا

لیکن سردست یہاں کے لوگ جو معاشی حالات کی وجہ سے اشیائے ضروریہ جیسے مچھلیوں کے شکار کیلئے جال ،بوٹس کیلئے موٹر ز وغیرہ خرید نہیں سکتے تاکہ اپنی معاشی ضروریات پوری کرسکیں

قونصل جنرل نے کہا کہ  مقامی افراد کے مشکلات کے پیش نظر پیپلز ریپبلک آف چین کی طرف سے گوادر کے ماہی گیروں کیلئے یہ تحفہ دیا گیا ہے تاکہ ان کو فوری ضرورت کا سامنا فراہم کیا جائے اور وہ اپنے معاشی ضروریات کو پورا کرسکیں

یہ چین کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام ہے

جیسا کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈو (سی پیک ) کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا گیا ۔گوادر جو  ایک چھوٹی سے بستی ہے جو بحیرہ عرب کے قریب واقع ہے اور سی پیک کا مرکز ہے گوادر نے گزشتہ پانچ سال کے دوران متعدد منصوبوں کی تکمیل کے باعث بہت سے تبدیلیاں دیکھی ہیں

بہ شمول فری زون کے پہلے فیز کے تحت گوادر کے ماہی گیرجوکل آبادی دو لاکھ کا 80 فیصد ہیں کے مسائل سے آگاہ ہیں سی پیک کا بنیادی مقصد لوگوں کو ترقی دینا ہے

سی پیک نے گوادر کو ایک چھوٹی سی بستی سے نکال کر انر جیٹک ٹائن میں تبدیل کردیا ہے

معاشی اقدامات نے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچانا شروع کردیا ہے امید ہے کہ گوادر کے مقامی ماہی گیر ی کا کام مزید ترقی کریگا

ایک بار ایسٹ بے ایکسپریس جو زیر تعمیر ہے جو نیو گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور فری زون کو ملک کے قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک سے منسلک کریگا مکمل ہوجائے تو یہاں کے ماہی گیری کا بزنس مزید ترقی کریگا اور سی پیک کا وعدہ بھی پورا ہوجائیگا

فشر مین الائنس کے رہنما نے چین کے حکومت کی طرف سے اقدام کو سراہا جبکہ مقامی سیاسی اور قبائلی رپنمائوں نے بھی  کہا کہ صرف سچے دوست ہی مدد کرتے ہیں اور چین کی حکومت نے اس کو ثابت کردیا

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں