افغانستان: امن کا قیام مذاکرات ہی واحد راستہ

بلوچستان24

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اعلیٰ سطح وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں جمعرات کو وزارت خارجہ ملاقات کی۔

ملاقات میں خطے کی صورتحال، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وفد کو وزارت خارجہ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں۔

گذشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک یکساں طور پر بھگت رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے افغانستان میں قیام امن کیلئے“مذاکرات”ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج دنیا، افغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے۔

پاکستان خوش دلی کے ساتھ گذشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین بھائیوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے وفد کی قیادت کرنیوالے ملابرادر طالبان کے اہم رہنما ہیں جنہیں 2008میں پاکستان کے شہرکراچی سے گرفتار کیا گیا تھا اور 2018میں رہا کیا گیا اورقطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی مقرر کیے گئے تھے

پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

افغان طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کی تعریف کی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ پاکستان افغان امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار صدق دل سے ادا کرتا رہے گا

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں