جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے.

0

اسلام آباد مانیٹرنگ ڈیسک )مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں گلریز کے علاقے میں ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں قیام پذیر تھے جہاں ان پر حملہ کیا گیا جس کے بعد انہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

گھر کے ملازم نے بتایا کہ وہ سودا سلف لانے بازار گیا تھا اور جب واپس آیا تو مولانا سمیع الحق کو زخمی حالت میں پایا۔ ان کے جسم پر چاقو کے نشانات تھے۔

دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین و جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق 18دسمبر1937کو اکوڑہ خٹک میں پید ا ہوئے

وہ مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے وہ متعدد مرتبہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے رکن منتخب ہوئے مولانا سمیع الحق کا طالبان اور ملا محمد عمر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے

طالبان انہیں اپنا استاد تسلیم کرتے تھے انہیں طالبان کے حوالے سے ایک بااثرشخصیت سمجھا جاتا تھا

مولانا سمیع الحق دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ بھی تھے ان کا شمار متحدہ مجلس عمل اور حرکت المجاہدین کے بانی اراکین میں ہوتا تھا

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,447

وہ ایک عرصے تک متحدہ مجلس عمل کے نائب صدر ررہنے کے علاوہ متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی تھے

مولانا سمیع الحق کی عمر81برس تھی ملک میں سینٹ کے حالیہ انتخابات کے موقع پر مولانا سمیع الحق آرمڈ فورسز آف کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ راولپندی میں زیر علاج بھی رہے

جہاں ان کی اوپن ہارٹ سرجری کی گئی مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبد الحق بھی عالم دین تھے جنہوں نے جامعہ حقانیہ کی بنیاد رکھی

مولانا سمیع الق نے اپنے والد کے ہی مدرسے دار العلوم حقانیہ میں تعلیم حاصل کی

فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق، عربی صرف و نحو (گرائمر)، تفسیر اور حدیث کا علم حاصل کیا انہیں عربی زبان پر عبور حاصل تھا

لیکن پاکستان کی قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے اور کالم لکھتے رہے
تحریک طالبان پاکستان کے پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو غیر اسلامی قرار دینے پر اور لوگوں کو اسے اپنے بچوں کو پلانے سے روکنے پر مولانا سمیع الحق نے 9 دسمبر 2013کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتویٰ جاری کیاتھا

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.