بلوچستان اسمبلی کا اجلاس۔۔۔ مولانا سمیع الحق کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی

0

کوئٹہ ۔۔۔۔اسٹاف رپورٹر

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,447

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی صدارت میں ہوا ،اجلاس میں جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ایصال ثواب کے لئے نواب اسلم رئیسانی کی استدعا پر ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی ، اجلاس میں ملک بھر سے صحافیوں کی میڈیا ہاؤسز سے جبری بیدخلی کیخلاف بلوچستان یونین آف جنرنلسٹس نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ، صوبائی وزیر میر اسد بلوچ نے ایوان کی توجہ صحافیوں کے بائیکاٹ کی جانب مبذوال کرائی ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سے صحافیوں کوا یوان میں واپس لانے کیلئے صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی صحافیوں کے پاس بھیجنے کی استدعا کی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے صوبائی وزرا میر اسد اللہ بلوچ ، میر نصیب اللہ مری ، ارکان اسمبلی سید فضل آغا ، احمد نواز بلوچ اور اصغر ترین کو صحافیوں سے بات چیت کے لئے بھیجا،

بعد ازاں ایوان میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے اسد بلوچ نے کہاکہ بلوچستان سے قلیل تخواہ پر کام کرنے والے 16 کے قریب صحافیوں کو جبری طور پر برطرف کیا گیا ہے جبکہ 6 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں لینے والے ملازمین تاحال میڈیا ہاؤسز میں براجمان ہیں جس پر فضل آغا نے کہا کہ ایوان میں صحافیوں کے درپیش مشکلات سے متعلق قرار داد ایوان میں لائی جائے جسے حکومت اور اپوزیش اکثریت رائے سے منظور کرئے گی ، نصیرا للہ زیرے کی جانب سے ایوان کی توجہ محکمہ اطلاعات کی جانب سے اخبارات کے اشتہارات کی بندش کی جانب مبذوال کراتے ہوئے کہا کہ اخبارات کے مدیران کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھے ہیں جن اخبارات کے اشتہارات بند کئے گئے ہیں وہ حکومت کے قوائد وضوابط کے تحت اے پی سی سرٹیفکیٹ حاصل کررکھی ہے اور ان اخبارات سے ہزاروں لوگوں کا روزگار منسلک ہے ،

صوبائی وزیر اطلاعات ظہور بلیدی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی کسی اخبار سے دشمنی نہیں بلوچستان میں اس وقت 70 کے قریب ایسے اخبارات شائع ہورہے ہیں جن کی کوئی سرکولیشن نہیں ایسے اخبارات کو اشتہارات جاری کرنا عوام کے پیسہ کا ضائع کرنا ہیایسے اخبارات کی نشاندہی ہوئی ہے جن پر نیب میں کیسز درج ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی اخبارات کی مدد کرتے ہوئے کسی کے ساتھ ذیادتی نہیں ہونے دیگی۔ جن اخبارات کی سرکولیشن ہے ان کی معاونت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ، اپوزیشن اور محکمہ اطلاعات کے افسران پرمشتمل کمیٹی قائم کرکے بلوچستان سے شائع ہونے والے اخبارات جائزہ لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ جن اخبارات کی سرکولیشن ہے ان اخبارات کے مدیران خود طے کریں کہ اخبارات کو جاری ہونے والے اشہارات کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا جس پر نصراللہ زیرے نے کہا کہ صوبائی وزیر اطلاعات جن اخبارات کا ذکر کررہے ہیں ان میں بلوچستان سے متعلق کوئی خبر شائع نہیں ہوتی۔ پانچ گھنٹوں تک چلنے والی اسمبلی اجلاس کی کاروائی ٹی وی چینلز پانچ منت تک نہیں چلائی جاتی ، قومی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات اور جرائد کا معاشی قتل عام بند کیا جائے ،

اپوزیشن کے رکن ثناء بلوچ نے ایوان میں تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت محکمہ اطلاعات کو ختم کرتے ہوئے 90 کروڑ روپے کا فنڈز محکمہ تعلیم اور صحت کو دے۔ جذباتی ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔ جس ملک نے اس محکمہ کو حکومت کی پبلسٹی کیلئے بنایا گیا تھا۔ حکومت اس لیے انفارمیشن کے محکمہ کو پاس رکھتے ہیں کہ اخبارات کو اشتہارات کا اجراء کرکے معاملات کو کنٹرول کیا جائے۔ اگر مسئلہ صرف چار پا پانچ اخبارات کو نوازنے کا ہے تو پھر محکمہ کو بند کیا جائے رسائی صرف اخبارات تک محدود نہیں ہے حکومت محکمہ اطلاعات کو پروپگینڈہ کیلئے استعمال کرتا ہے اگر جو مقامی اخبارات یا زبانیں متاثر ہوتی ہیں ان کو ہم منائیں گے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرینگے۔ اشہارات بند کرنے ہیں تو تمام اخبارات کے اشتہارات بند کئے جائیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات ظہور بلیدی نے کہا کہ محکمہ کا مطلب اخبارات و جرائد کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جانا ہے ایسا نہیں کرسکتے ہیں کہ جن اخبارات کی سرکولیشن نہ ہو ان کو اشتہارات دیں غیر قانونی کام نہ پہلے کیا نہ آئندہ کرینگے۔ رکن بلوچستان اسمبلی سید فضل آغا نے کہاکہ اخبارات بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کریں اس وقت چھوٹے اخبارات کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت چھوٹے اخبارات کو سپورٹ کرکے بے روزگاری میں کمی کی جائے ، اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات میر ظہور بلدی نے کہا کہ گوادر یونیورسٹی کا مسودہ قانون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جس پر بڑی محنت سے کام کیا گیا ہے گزشتہ اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے بھی اس کی مخالفت نہیں کی گئی وفاقی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں گوادر سی پیک کے حوالے سے انتہائی اہم ترین ہے وہاں یونیورسٹی کے قیام کی انتہائی ضرورت ہے۔

اس میں تاخیر نہ کی جائے جمعیت علماء اسلام کے ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپوزیشن گوادر یونیورسٹی اور ملازمین کے بنیوولینٹ فنڈ کے بلوں کی گزشتہ اجلاس میں حمایت کرچکی ہے ہمارے اعتراض وزیراعلیٰ کے اسپیشل اسٹنٹنس کی تقرری کے حوالے سے لائے جانے والے بل پر تھا اس کا طریقہ کار بھی درست نہیں تھا۔ پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے کہا کہ یونیورسٹی کا جو بل لایا گیا ہے ہم نے اس پر اپنی تجاویز دینی ہے صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ اسمبلی کی اب تک کمیٹیاں نہیں بنیں ہیں سفارات کہاں بھیجی جائیں۔ نصراللہ زیرے نے کہا کہ ہم بل کو مزید بہتر بنانے کیلئے تجاویز دے رہے ہیں صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ ایوان بل کی منظور دے پھر اس پر بیٹھ کر بات کرلینگے۔

ڈپٹی اسپیکر نے نصراللہ زیرے سے کہا کہ بل کے حوالے سے دو دن پہلے اسمبلی سیکرٹریٹ کو تحریری طور پر اپنی تجاویز دینی تھی جو آپ نے نہیں دی بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء بلوچ نے کہا اپوزیشن گوادر یونیورسٹی اور بیندولینٹ فنڈز کے بلوں کی پہلے ہی حمایت کرچکی ہے اور جب کسی بل پر دو ریڈنگ ہوجائے تو یہ بل منظور ہوجاتا ہے۔ اور ان بلوں پر ریڈنگ کے بعد یہ منظور ہوچکے ہیں اصل مسئلہ اسپیشل اسٹنٹنس کے مسئلہ کا ہے جس پر ہمارے تحفظات ہیں اس بل میں اسپیشل اسٹنٹس کی تنخواہوں اور مراعات کا ذکرتو موجود ہے لیکن ان کی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے کہیں دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ مراعات کا تعین کیا جائے اور ذمہ داریوں کا ذکر نہ ہو ہم نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اس بل پر اثر نو غور کیا جائے تاکہ بلوچستان اسمبلی کے باہر بہتر تاثر جائے۔

انہوں نے گوادر یونیورسٹی کے قیام پر گوادر کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گوادر سمیت پورے بلوچستان میں یونیورسٹیوں کے قیام کی بڑی ضرورت ہے انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ تین سالوں کے دوران صوبے کے تمام ڈگری کالجز یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے اور تمام تحصیلوں میں انٹر کالجز کا قیام یقینی بنایا جائے ، صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے بل کی حمایت کرنے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا پشتونخواء4 کے نصراللہ زیرے نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں تین بلز پیش ہوئے اور آج یہاں منظور کیلئے دو بل لائے گئے ہیں اس اسپیشل اسٹنٹس کے بل کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کیوں نہیں لایا گیا اور غلط طریقہ کار کے تحت وہ بل کیسے منظور کرلیا گیا ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اپوزیشن گزشتہ اجلاس کا واک آؤ ٹ کرکے چلی گئی تھی تب یہ بل منظور کرلیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی چیزوں کو الجھا دیا گیا تھا اسپیشل اسٹنٹس کا بل اپوزیشن کی واک آؤٹ کے بعد اسی ایوان میں منظور کرلیا گیا تھا جمعیت علماء اسلام کے ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بل غلط طریقہ سے منظور کیا گیا ہے اس کو واپس ایوا ن میں لاکر اس پر بحث کی جائے بعدازاں ایوان نے گوادر یونیورسٹی کے مسودہ قانون کی منطور ی دیدی۔ اجلا س میں صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے بلوچستان گورنمنٹ ایمپلائزبینولینٹ فنڈ کا مسودہ قانون منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پانچ نومبر سہ پہر پیر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.