بلوچستان میں آؤٹ آ ف سکول بچوں کی تعداد،10لاکھ ہوگئی

0

رپورٹ:محمد غضنفر

حکومت کی جانب تعلیم کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، دور دراز علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں اور غربت کے باعث بلوچستان میں بڑی تعداد میں بچے اسکول نہیں جاتے ہیں

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25۔Aکے تحت ریاست 5سے 16سال تک بچوں کو مفت اور ضروری تعلیم فراہم کرنے کا پابند ہے مگر بلوچستان میں اس آرٹیکل کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

ملک میں تعلیم کی بہتر ی اور اعداد شمار پر کا م کرنے والی تنظیم الف اعلان کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 18لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,717

کوئٹہ میں موٹر سائیکل میکنیک کی دکان میں کام کرنیوالے 12 سالہ شکور احمد شہر کے دوسر ے بچوں سے کچھ اس طرح مختلف ہے کہ اس نے کبھی اسکول کی دہلیز پار نہیں کیا۔

شکور احمد کے مطابق ’’مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے مگر ہمارے گھر کے حالات ایسے نہیں کہ ہمارے والدین ہمیں اسکول پڑھا سکیں اسکی وجہ سے میں موٹر سائیکل میکنک کی دکان پر کام کرتا ہوں‘‘

شکور احمد کے ددسرے 3بہن بھائی بھی دکانوں اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔

شکور احمد کے بقول ’’یہ کام سخت ہے۔سارا دن محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کام میں ہاتھ اور کپڑے کالے ہوجاتے ہیں ساتھ ہی استاد کی ڈانٹ بھی سننی پڑتی ہے مگریہ ہماری مجبوری ہے‘‘

موٹر سائیکل میکنیک کی دکان میں کام کرنیوالا 12 سالہ شکور احمد

 

شکور احمد کے والد سفر خان ایک ٹرک ڈرائیور ہیں وہ پورے مہینے میں بس اتنا ہی کما پاتے ہیں کہ اپنے بچوں کے کھانے پینے کا بندوبست کرسکیں۔ انکے لیے بچوں کو تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا کسی خواب سے کم نہیں ہے۔

سفر خان کے مطابق ’’بچوں کو تعلیم دینے کے بجائے انہیں میکنک کی دکان پر کام کرانے کی وجہ غربت ہے۔ میرے بچوں کام کرکے گھر بار چلانے میں میری مدد کرتے ہیں‘‘

پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹکس 2017۔16کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں آوٹ آف سکول بچوں کی تعداد پرائمری کی سطح پر651375مڈل کی سطح پر 510579اور ہائی سکول کی سطح پر 350064،ہائرسکینڈری کی سطح پر 399652 ہے۔

 

حکومت کو تعلیم پر خصوصی توجہ دیناہوگی کیونکہ یہاں غربت کی شرح زیادہ ہے لوگ اپنے بچوں کو پڑھانے کے بجائے کام کرانے کوترجیح دیتے ہیں

 

زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہیے کہ آوٹ آف سکول بچوں کی تعداد میں کمی ہوسکے اس حوالے سے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر بہرام غوری نے بلوچستان24کو بتایا کہ حکومت کو تعلیم پر خصوصی توجہ دیناہوگی کیونکہ یہاں غربت کی شرح زیادہ ہے لوگ اپنے بچوں کو پڑھانے کے بجائے کام کرانے کوترجیح دیتے ہیں وسری جانب بلوچستان میں سکولوں میں سہولیات کی کمی ہے جس کی وجہ سے بچے سکول نہیں جاتے اورڈراپ ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر بہرام غوری کے مطابق’’لوگ اپنے بچوں کو اس لیے پڑھاتے ہیں کہ کل یہ کوئی جاب حاصل کرے لیکن جب اسے سرکاری جا ب نہیں ملتی اور ہم دیکھتے ہیں کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی ڈگریاں اٹھائے نوکریاں تلاش کرتے ہیں تو لوگ اپنے بچوں کو پڑھانے کے بجائے کا م کرانے کو ترجیح دینگے‘‘

پروفیسر بہرام غوری حکومت کو یہ تجویز دیتے ہیں کہ وہ لوگو ں کو تعلیم سے آگاہی دینے کے ساتھ تعلیمی اداروں میں سہولیات فراہم کریں کیونکہ اگر سکول میں پانی،ٹیچراور لیٹرین کی سہولت نہیں ہوگی تو کون سا بچہ سکول جائے گا اس لیے پہلی فرصت میں حکومت تعلیمی اداروں کے بنیادی مسائل حل کرے اوران کیلئے خطیر فنڈ مختص کرے‘‘

بلوچستان میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا آؤٹ آف اسکول ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی ہے

غیر سرکاری تنظیم آزات فاونڈیشن کے عہدید ار آوٹ آف سکول بچوں کی بڑی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہیں

تنظیم کے سی ای او زاہد مینگل نے بلوچستان24کو بتایا کہ بلوچستان میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا آؤٹ آف اسکول ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی ہے صوبے کے دور دراز علاقوں میں لیٹرین اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث بڑی تعداد میں لڑکیاں اسکول چھوڑ جاتی ہیں۔

زاہد مینگل کے مطابق ’’آوٹ آف سکول بچوں کی تعداد شاید بہت زیادہ ہے لیکن ہمارے ہاں اصل مسئلہ ڈراپ آو?ٹ کا ہے چونکہ دیہات میں سکول نہیں ہیں اگر ہیں تو دور دراز علاقوں میں ہیں کم سے کم فاصلہ تین سے چار کلو میٹر ہے دوسری جانب موجودہ سکولوں میں سہولیات کی کمی ہے۔60سے 70فیصد سکولوں میں صرف ایک ٹیچر ہے‘‘

زاہد مینگل کے بقول بلوچستان میں مختلف اداروں کے سروے رپورٹس یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض سکولوں میں چار دیواری نہیں،پینے کا پانی نہیں،غربت بھی بچوں کوسکول نہ بھیجنے کی ایک وجہ ہے گزشتہ تین سال کے دوران بلوچستان میں صرف 7سو پرائمری سکول کھولے گئے

چاردیواری کی سہولت پرائمری میں 35،مڈل میں 72،ہائی میں 88،ہائی سکینڈری میں93فیصد کو میسر ہے

 

ادھر حکومتی ادارہ برائے شماریات کے محکمہ تعلیم کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں پرائمری کی سطح پر صرف 15فیصد،مڈل33،ہائی 68فیصد،ہائی سکینڈری 88فیصد سکولوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے جبکہ پینے کاپانی پرائمری 51فیصد،مڈل 54فیصد،ہائی70،ہائر سکینڈری کی سطح پر 93میں موجود ہے لیٹرین کی سہولت پرائمری 19،مڈل 63،ہائی 83،ہائی سکینڈری 93فیصد کو میسر ہے۔چاردیواری کی سہولت پرائمری میں 35،مڈل میں 72،ہائی میں 88،ہائی سکینڈری میں93فیصد کو میسر ہے۔

بلوچستان کے صوبائی مشیر تعلیم محمد خان لہڑی غیر سرکاری تنظیموں کے اس اعداد و شمار کو رد کرتے ہیں کہ بلوچستان میں 18لاکھ یا اس سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے ان کے مطابق یہ تعداد صرف 10لاکھ ہے جبکہ6لاکھ کے قریب بچے دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں جن کو مذہبی تعلیمی کے ساتھ عصری تعلیم بھی دی جارہی ہے اور یہ مدارس بھی خواندگی کی شرح کو بہتر کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔

محمد خان لہڑی نے بلوچستان24کو بتایا کہ ’’بلوچستان حکومت یونیسیف کیساتھ ملکر ایک منصوبہ شروع کررہی ہے جو پانچ اضلاع میں شروع کردیا گیا ہے اسے مزید گیارہ اضلاع اور پھر پورے صوبے میں پھیلانے کامنصوبہ ہے‘‘

حکومت کی جانب سے بنائے گئے اس منصوبے کے تحت ایسے علاقے جہاں سکول نہیں وہاں کمیونٹی کیساتھ ملکر بچوں کو سکولوں میں لایا جائیگا پہلی سطح پر پرائمری اور پھر مڈل لیول پر بچوں کو سکول میں داخل کیاجائیگا اس منصوبے میں کمیونٹی ہی سے پڑھے لکھے نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں کو بھرتی کیاجائیگا تاکہ وہ کمیونٹی کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہی دے سکیں۔

مشیر تعلیم کے مطابق جن سکولوں میں سہولیات جیسے پینے کاپانی اور واش رومز وغیرہ نہیں ہیں ان میں سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کررہے ہیں ہم اساتذہ کی غیر حاضریو ں کو روکنے میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں نئے منصوبے کے تحت ہر ضلع میں 150پرائمری سکول،33ماڈل اور66سکولوں کو پرائمری سے مڈل کرنے کامنصوبہ ہے۔جن سکولوں کی عمارت نہیں انہیں عمارت فراہم کرینگے ہماری حکومت کی بھی اولین ترجیح تعلیم اورصحت ہے جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے آتے ہی کہا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح تعلیم اور صحت ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں تعلیمی بجٹ میں 24 فیصد اضافے اور نئے منصوبوں کی تشکیل کے باوجود حکومت بچوں کو آئین کے آرٹیکل  25 اے کےتحت مفت بنیادی اور لازمی تعلیم کی فراہمی میں ناکام رہی ہے ۔ ماہرین کی یہ تجویز ہے کہ حکومت موثر تعلیمی پالیسی بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کے لیے اسکول کی راہ ہموار ہوسکے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.