بلوچستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے

رپورٹ:سہیل بلوچ

کوئٹہ اور چمن کو غیر قانونی  گاڑیوں کی عالمی منڈی تصور کیا جاتا ہے یہاں سے کسی کو بھی جدید گاڑی مل سکتی ہے شہر میں مختلف مقامات پر شورومز میں گاڑیوں کی مختلف اقسام مل سکتی ہیں۔

پاکستان کی بلوچستان میں افغانستان کیساتھ طویل سرحد ملتی ہے اور چمن کے راستے افغانستان سے بہت سی  چیزیں کوئٹہ شہر تک اسمگل کی جاتی ہیں جن میں غیر قانونی گاڑیوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

کوئٹہ میں موجود ایک شوروم مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ”بلوچستان24“کو بتایا کہ افغانستان کے سرحد ی علاقے ویش بارڈر پر کنٹینرز میں گاڑیاں آتی ہیں جہاں ان کو خریدنے والے سرمایہ کار موجود ہوتے ہیں جو گاڑیاں کر کوئٹہ میں فروخت کرتے ہیں۔

شوروم مالک کے بقول : ”کوئٹہ میں گاڑی کو مخصوص شوروم تک پہنچایاجاتا ہے جہاں پر پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنیوالے لوگ ایسی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں  خریدلیتے ہیں یا پھر ان گاڑیوں کوخیبر پختونخواہ  کے علاقے مالا کنڈ ڈویژن منتقل کیاجاتاہے جو ٹیکس فری زون ہے اور یہ گاڑیاں تھانے سے رجسٹریشن کے بعد قانونی قرار دی جاتی ہیں”

ایک اندازے کے مطابق یہ اربوں روپوں کا کاروبار ہے جو پورے ملک تک پھیلا ہوا ہے ان گاڑیوں میں چھوٹی گاڑیوں سے لیکر بلٹ پروف گاڑیوں تک شامل ہیں ۔

شوروم مالک نے مزید بتایا کہ چونکہ بلوچستان میں بے روزگاری زیادہ ہے اور یہاں پر کوئی فیکٹری یا صنعتیں نہیں ہیں جس کے باعث یہاں کے لوگ یہ خطرناک کام کرنے پر مجبو ر ہیں اور اس سے سینکڑوں گھرانوں کا روزگار وابستہ ہے ۔

افغانستان سے غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالی گاڑیوں سے جہاں ٹیکس کی عدم ادائیگی سے ملکی معشیت کو نقصان پہنچ رہا ہے وہیں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے پرزہ جات شہریوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر گاڑیوں کی مرمت  کرنیوالے محمد ناصر کے مطابق لوگ ایکسیڈنٹ شدہ گاڑیاں ہمارے پاس لاتے ہیں ان میں نئے  کے بجائے سمگل شدہ گاڑیوں کے سستے اور معیاری پرزہ جات لگانے کوکہتے ہیں۔

محمد ناصر کے بقول:گاڑی کا انجن،دروازہ،شیشہ غرض کے جو چیز بھی ناکارہ ہوجائے وہ سامان سمگل شدہ گاڑیوں سے نکال کا لگانا آسان ہے کوئٹہ میں اس کی ایک بہت بڑی مارکیٹ  موجود ہے۔

کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر گاڑیوں کی مرمت  کرنیوالے محمد ناصر

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسی طرح سمگل شدہ گاڑیوں کے پرزہ جات کا کاروبار افغانستان کے پاکستان سے منسلک علاقے اسپن بولدک اور ویش منڈی میں ہوا کرتا تھا مگر اب یہ کاروبار پاکستان کے افغانستان  کےسرحد سے متصل علاقے چمن اور کوئٹہ میں کیا جاتا ہے۔

کوئٹہ میں ڈبل روڈ پر ایسے ہی ایک پرزہ جات کی مارکیٹ میں نور شاہ درانی گزشتہ تین سالوں سے اس کاروبار سے منسلک ہیں ان کے مطابق عام  مارکیٹ میں نئے پرزہ جات بہت مہنگے ہیں ہمارے پاس جاپانی گاڑیوں کے اصل اور معیاری پرزہ جات دستیاب ہیں اس لیے لوگ اس  مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کسٹم حکام ان گاڑیوں کی نقل و حمل پر نظر رکھتے ہیں اور مختلف چیک پوسٹس پر اہلکار ایسی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کرکے غیر قانونی  گاڑیوں کو  تحویل میں لیتے ہیں ۔

کوئٹہ میں کسٹم کلیکٹریٹ کے ترجمان عطاء محمد نے ”بلوچستان 24“ کو بتایا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں غیر قانونی گاڑیوں کیخلاف کارروائیاں کی گئیں  تھیں اور بہت سی  نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

عطاء محمد کے مطابق “خصوصی کارروائی کے علاوہ  قومی شاہراہوں پر بھی ہمارے چیک پوسٹ قائم ہیں جن میں  بلیلی،لک پاس اور یارو کا علاقہ شامل ہے ،جہاں پر کسٹم اہلکار ہر وقت نہ صرف غیر قانونی  گاڑیوں کی روک تھام کیلئے چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے  ہیں بلکہ یہاں سے دیگر اشیاء اسمگل کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

عطاء محمد کے بقول: چونکہ بلوچستان ایک وسیع و عریض علاقہ ہے اور ہمارے اہلکاروں کی نفری کم ہے تاہم اس کے باوجو د ہم  سمگلنگ اور غیر قانونی  گاڑیوں کی روک تھام کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

عطاء محمد کے مطابق تحویل میں لیے جانےوالی گاڑیوں کو بعد میں نیلام کردیا جاتا ہے جس میں بعض اوقات سو گاڑیاں اور کبھی دو سو گاڑیاں ہوتی ہیں۔

گوکہ غیر قانونی گاڑیوں کی نقل و حمل روکنے کیلئے حکومت وقتاً و فوقتاً کارروائیاں کرتی رہتی ہے اور کسٹم حکام بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اس کے باوجود  کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تعداد میں کمی نہیں ہو رہی جس کا سب سے بڑا نقصان ملکی معیشت کو پہنچ رہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں