بلوچستان میں سکولوں میں بچوں پر تشدد روکنے کا کوئی قانون موجود نہیں

0

رپورٹ : محمد غضنفر

بلوچستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے آئے روز بچوں پر اسکولوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

قومی سطح پرسرکاری اسکولوں میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر موجودہ حکومت نے گزشتہ سال اسکولوں میں بچوں پر تشدد کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے تاہم 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی وفاق کی طرز پر قانون متعارف کراوئیں۔

گو کہ بچوں پر اسکولوں میں تشدد کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تاہم دور جدید میں بھی بعض والدین روایتی طور پر یہ کہہ کر اپنے بچے استاد کے حوالے کرتے ہیں کہ ”اس کی ہڈیاں سلامت رہیں گوشت آپ کا ہے “ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

تیرہ سال کے ناصر خان کوئٹہ کے مقامی سرکاری اسکول کے چھٹی جماعت کا طالب علم ہے۔ ناصر غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ پڑھائی میں بھی اسکول کا ہونہار طلب علم ہونے کے باوجود چند ماہ قبل اچانک اسکول سے غیر حاضر رہنے لگا جس پراسکول انتظامیہ نے انکا نام خارج کردیا۔

ناصر نے بلوچستان 24کو اپنے اسکول سے غیر حاضر ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ” میرے بڑے بھائی اچانک بیمار ہوگئے اور ہم انہیں علاج کے لیے کراچی لے گئے جس کی وجہ سے میں اسکول سے غیر حاضررہا۔ اور میں نے استاد کی جانب سے سزا کے خوف سے اسکول چھوڑ دیا ، مجھے اس کا بہت افسوس ہے ، اگر اسکول ٹیچر مار پیٹ نہ کریں تو طالب علم اسکول چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچیں گے۔

سزا کے خوف کے باوجود ناصر والدین کے دباؤ کے باعث دوبارہ اسکول جانے پر مجبور ہوا اور اانہیں غیر حاضری کی سز ابھی ملی۔

سرکاری اسکولوں میں تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ہیں بعض اساتذہ درس و تدریس کے دوران بچوں پر جسمانی تشدد کو لازمی نہیں سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی ایک استاد کریم بخش جتک بھی ہیں ان کے مطابق استاد کو پہلے طالبعلم کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ اسے اپنا ہمدرد تصور کرے۔

کریم بخش جتک نے بلوچستان 24سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ” استاد کا کردار ایسا ہو ناچائیے کہ وہ کلاس میں طالبعلم کا بھائی یا دوست بن جائے اورسکول سے باہر وہ طالبعلم کے والد کادرجہ حاصل کرے۔میں بچوں کو پیار سے پڑھانے کا قائل ہو ں مار پیٹ سے بچہ بد دل ہو جاتا ہے ، میں دوسرے

کریم بخش جتک اسکول ٹیچر اور ماہر تعلیم

اساتذہ کو بھی یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بھی بچوں پر تشدد سے گریز کریں “۔

بلوچستان میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ”سحر“ کے عہدیدار میر بہرام لہڑی نے بلوچستان 24کو بتایا کہ ان کا ادارہ بچوں پر اسکولوں اور کام کرنے کی جگہ پر تشدد کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے کام رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016ء میں پا س ہوا اس قانون میں بچوں کے تمام حقوق پر آرٹیکلز شامل ہیں تاہم اسکولوں میں اساتذہ کی جانب سے بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے تاحال کوئی قانون موجود نہیں ہے

بہرام لہڑی کے مطابق ” ہماری تنظیم نے محکمہ تعلیم بلوچستان کو بچوں پر اسکولوں میں ہونے والے تشدد کے حوالے سے قانون سازی کے لیے تجاویز دی

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,447
غیر سرکاری تنظیم ”سحر“ کے عہدیدار میر بہرام لہڑی

تھیں لیکن اس حوالے سے کوئی قانون نافذ نہیں ہوا۔اس قانون کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ اساتذہ کی سی بی اے تنظیمیں بن رہی ہیں “۔

بہرام لہڑی نے مزید بتایا کہ اسکولوں میں بچوں پر کس قسم کا تشدد ہوتاہے اور اعداد وشمار کیا ہیں اس کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ والدین اور بچے اسکول سے نکال دینے کے خوف سے میڈیا پر سامنے نہیں آتے اور قانون نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو شکایت کرنا بھی ناممکن ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے خاتون رہنما ثناء درانی نے بلوچستان 24سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ بلوچستان میں اس وقت اسکولوں میں بچوں پر تشدد کی روک تھام سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ہے لیکن موجود ہ حکومت کا عزم ہے کہ قانون پر کام کرکے اسے اسمبلی سے پاس کرایا جائے۔

ثنا ء درانی کے بقول ” بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان اسمبلی اور وزراء مختلف امور سے متعلق قانون سازی کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان میں ایک

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے خاتون رہنما ثناء درانی

قانون اسکولوں میں بچوں پر تشدد کی روک تھام سے متعلق ہوگی۔

اس سلسلے میں صوبائی سیکرٹری تعلیم طیب لہڑی نے بلوچستان 24سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ ہے کسی قسم کی بھی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر محکمہ حرکت میں آتا ہے سرکاری اسکولوں میں طلب علموں کے دیگر مسائل کے حل کے ساتھ ان پر اساتذہ کی جانب سے تشدد کے واقعات کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے

طیب لہڑی نے بتایا کہ ” اسکولوں میں جو استاد بچوں پر دوران تدریس تشدد کرے گا اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی ایسے اساتذہ کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتا ہے “

ماہرین قانون کے مطابق بلوچستان میں سکولوں میں بچوں پر تشدد روکنے کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے

ماہر قانون دان امداد شاہ ایڈووکیٹ نے بلوچستان 24کو بتایا بلوچستان میں سکولوں میں بچوں پر تشدد روکنے کیلئے کوئی قانون موجود نہیں بلکہ 1860کے

امداد شاہ ایڈووکیٹ

ایکٹ پی پی سی اور سی آر پی سی کے تحت ایسے کیسز کو ڈیل کیا جاتا ہے اور چائلڈ لیبر ایکٹ بھی موجود ہے جسے جنرل سیکشن ڈیل کرتا ہے

ماہرین تعلیم کے مطابق اسکولوں میں تدریس کے دوران جسمانی سزا دینے سے بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کے پرتشدد رویے سے بچے تعلیم میں دلچسپی لینا چھوڑ رہے ہیں حکومت کو چائیے کہ وہ اس قسم کے واقعات روکنے کیلئے قانون سازی کرے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.