بلوچستان،تیز رفتاری 13قیمتی جانوں کو نگل گئی

رپورٹ۔۔عبدالکریم،نیاز شہزاد

بلوچستان میں روڈ حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع تھمنے کا نام نہیں لیے رہا صوبے کی بڑی شاہراہیں مقتل گاہوں میں تبدیل ہوچکی ہیں

جس کی وجہ سے بہت سے خاندان اپنے پیاروں کو کھوچکے ہیں آج بلوچستان کے مختلف مقامات پر روڈ حادثوں میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں

پہلا واقعہ لسبیلہ مکران کوسٹل ہائی وے بزی لک کے قریب پیش آیا جہاں مسافر کوچ گہری کھائی میں جاگری،

کوچ پسنی سے کراچی جارہی تھی بس میں سوار دس افراد جاں بحق جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے،جاں بحق وزخمیوں میں مرد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

نعشوں وزخمیوں کوڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اوتھل اور اورماڑہ منتقل کیا گیا

جبکہ دوسرا حادثہ خضدار میں قومی شاہراہ پر جیوا کے مقام پر پیش آیا،جہاں دو مسافر ویگنوں میں تصادم ہوا حادثے میں تین مسافر موقع پر جاں بحق 16 افراد زائد زخمی ہو گئے،زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کردیا گیا

یاد رہے کوسٹل ہائی وے، آر سی ڈی شاہراہ، کوئٹہ چمن شاہراہ، کوئٹہ ڑوب شاہراہ اور کوئٹہ سبی شاہراہ پر آئے روز حادثات رونما ہوتے ہیں

لیکن اس کے تدارک کیلئے حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا، کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ حادثات تیزرفتاری کے سبب پیش آتے ہیں

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں