کیا مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ناکام ہوگیا ؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 مارچ کو آزادی مارچ کا اعلان کیا اور ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے

قافلے اسلام آباد میں پہنچ کر دھرنا دیدیا جو تاحال جاری ہے

مولانا فضل الرحمان نے دھرنا کے پہلے روز جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دیتے ہیں استعفیٰ کیلئے  اس کے بعد ہم اپنا فیصلہ کرینگے

الٹی میٹم کے آخری روز رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا

دوسری جانب حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا

مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز دھرنے سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جو مقصد لیکر آئے تھے اس کے قریب ہوتے جارہے ہیں

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی دم توڑ گئی ہیں آج تمام اپوزیشن متحد ہے

جس کی واضح مثال یہ اجتماع ہے

دوسری جانب تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے کچھ سرد مہری اور دھرنے سے کنارہ کشی کے باعث مولانا  کا دھرنا ناکامی کی طرف جارہا ہے

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مولانا کا دھرنا ناکام ہوگیا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ہوگا

اگر مولانا دھرنا ناکام ہوگیا تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا اور اپوزیشن کو بھی اس کا نقصان ہوگا

دھرنے کی ناکامی کے بعد  اپوزیشن کو ایم آر ڈی کی تحریک چلانے ہوگی جس طرح ضیائ الحق کیخلاف چلائی گئی تھی

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں