بلوچستان میں سیلاب ،پانی ہمارا سب کچھ بہا کر لے گیا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

رپورٹ ۔۔۔میر ہزار خان بلوچ

بلوچستان میں سیلاب کے بعد تباہی کے نشانات نظر آنے لگے متاثرین کی تعداد کے حوالے سے حکومتی کے اعداد و شمار تاحال سامنے نہیں آسکے ریلیف کاکام بھی سست روی سے جاری ہے 45سالہ میر خیر بخش مینگل نوشکی کے قبائلی رہنما اور ایک زمیندار ہیں سیلاب نے نہ صرف انہیں گھر سے محروم کردیا بلکہ زرعی زمینوں کی تباہ حالی نے انہیں مالی طور پر نقصان پہنچایا

میر خیر بخش مینگل نے بلوچستان 24ڈاٹ کو بتایا کہ سیلاب نے ہماری زمینیں جس میں انگور کا باغ بھی اور فصلیں تھیں سب تباہ کردیں اور اب وہاں صرف سیلاب کے پانی کے لائے ہوئے مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہمیں اس سے کروڑوں کانقصان ہوا ہے ہمارا واحد ذریعہ معاش زراعت ہے اور وہ ہی تباہ ہوگیا

میر خیر بخش مینگل کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینداروں کے بارہ ہزار حفاظتی اور زرعی بندات کو بھی نقصان پہنچا ٹیوب ویل مٹی سے بھر گئے ان کے سولر پینل خراب ہوگئے اور ہم کئی سال پیچھے چلے گئے ہیں

بلوچستان کاضلع نوشکی تین لاکھ 47ہزار 190اسکوائر کلو میٹر پر علاقے پر مشتمل ہے حالیہ بارشوں کے بعد سیلاب سے ضلعی انتظامیہ کے مطابق 18دیہات متاثر ہوئے ہیں پانچ سو مکانات کوشدید نقصان پہنچا ہے تاہم علاقہ مکینوں کے مطابق تباہی اس سے زیادہ ہے سیلاب سے سب سے زیادہ کلی عبدالصمد ،خیر بخش ،ناصر خان ،محمد خان،درزی چاہ ،بیدی ڈاک متاثرہوئے ہیں

سیلاب نے علاقے کے انگور کے باغات ،گندم ،پیاز ،زیرہ کی فصل کو بھی بہا کر لے گیا اور زرعی ٹیوب ویل بھی ناکارہ کردئیے ہیں

ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق بلوچ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں فضائی ریسکیو اور ریلیف آپریشن مکمل کرلیا گیا متاثرہ علاقوں کاجائزہ لینے کیلئے چاغی

ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق بلوچ

جانیوالی سڑک بحال کردی ہیانتظامیہ متاثرہ علاقوں کا آج دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیگی

ڈی سی نوشکی کے مطابق سیلاب کا پانی نکل جانے کے بعد متاثرہ علاقوں میں مکانات رہنے کے قابل نہیں رہے اور جو مکانات بچ گئے وہ بھی گرنے کے قریب ہیں :ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے ضلع میں پانچ سے دس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں تاہم اصل صورتحال علاقے کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوگی

دوسری جانب ضلع ہرنائی کے علاقے زرغون غر کے راستے چھ روز بعد کھول دئیے گئے چار دن تک مسلسل ریسکیو آپریشن میں بلڈوزر سمیت چار ٹریکٹروں نے حصہ لیا

ڈی سی ہرنائی عظیم جان دمڑ کے مطابق آپریشن کے دوران 72 کلومیٹر شاہراہ سے برف ہٹا کر راستہ کلیئر کیا گیامختلف دیہاتوں کا 20 کلومیٹر سے زائد لنک روڈوں سے بھی برف ہٹا کر راستے کلیئر کردیا گیا
برفباری کی وجہ سے زرغون غر کی آٹھ ہزار آبادی 6 دن تک محصور رہی زرغون غر کے مائینز ایریے تک مکمل روڈ کلیئر ہے راستے کلیئر ہونے کے بعد آزادنہ نقل وحرکت شروع ہوگئی ہے

اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ جہانزیب شیخ کے مطابق اب تک 21 سو سے زائد متاثرہ خاندانوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا آج مزید پانچ ٹرک سامان مل جائیگا جسے مزید متاثرین میں تقسیم کیا جائیگا

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ ( پی ڈی ایم اے ) کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ضلع پشین کے متاثرین کیلئے امدادی سامان روانہ کردیا گیا جس میں 200ٹینٹ ،200کمبل ،200پلاسٹک میٹ شامل ہیں ضلع ہرنائی کیلئے پانچ سو کمبل ،پانچ سو ٹینٹ ،پانچ سو پلاسٹک میٹ روانہ کیے گئے ہیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: