وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کامنی بجٹ لانے کاعندیہ

0

ویب ڈیسک

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے مالی سال 2018-19کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کا اجراء شروع کردیا ہے اب تک مختلف سیکٹر ز کے 952جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 23ارب روپے فنڈز جاری کئے گئے ہیں

رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں 3213نئے اور 1515جاری ترقیاتی منصوبوں میں 80فیصد سے زائد مکمل ہونیوالے منصوبوں کیلئے بقایا فنڈز کااجرا کرکے ان کی تکمیل کو یقینی بنانے کافیصلہ کیا ہے

ایسی خبریں من گھڑت ہیں جن میں پی ایس ڈی پی کے حوالے سے حکومت کوتنقید کانشانہ بنانے کی کوشش کی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان پچیس سال کی صوبائی پی ایس ڈی پی کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دے ۔سابق حکومتوں نے سیاسی دباؤ ڈال کرپی ایس ڈی پی میں اسکیمیں ڈالیں جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اس میں ملوث افسران کو بھی سزا دینی چاہیے

بلوچستان ہائیکورٹ نے پی ایس ڈی پی پر از خود نوٹس لیکر بہترین کام کیا پانچ سو ارب کی اسکیمات میں سے اڑھائی سو ارب روپے کی اسکیمیں ختم کردیں صوبے کا ریونیو پچیس سے سے تیس ارب تک لے جائینگے

این ایف سی کیلئے کوشش کرینگے کہ حصے سے زیادہ ملے ضرورت پڑنے پر منی بجٹ لاسکتے ہیں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی پریس کانفرنس

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ سپریم کورٹ بلوچستان کے گزشتہ پچیس سالوں کے پی ایس ڈی پی پر کمیشن قائم کرے جو تحقیقات کرکے ذمہ داروں کاتعین کرے اگست 2018سے پہلے کی حکومتوں کے احکامات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے جنہوں نے غلطی کی انہیں سزا دی جائے

بلوچستان کے پی ایس ڈی پی ماضی میں بھی متنازعہ رہے ہیں بلوچستان ہائیکورٹ نے 2018-19کے پی ایس ڈی پی کا از خود نوٹس لیا تھا جس پر کام روک دیا گیا ہم عدالت کے اقدام کو سراہتے ہیں
پی ایس ڈی پی وہ پروگرام ہے جس سے لوگوں کو ترقیاتی ریلیف ملتا ہے عدالت میں پی ایس ڈی پی کی سماعت کے دوران جن افسران نے پی ایس ڈی پی پر دستخط کیے تھے انہوں نے خود اس سے لاتعلقی کااظہار کیا
اور کہا کہ ان پر دباؤ تھا جس کے بعدانہوں نے بغیر قانونی تقاضوں کو پوراکیے اسکیمات پی ایس ڈی پی میں شامل کردیں

عدالت نے ایک مختصر حکم نامے میں صوبے میں چار سیکٹرز جن میں تعلیم صحت ،پانی اور امن وامان شامل ہے کوترجیحی بنیادوں پر پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کاحکم دیا تھا جسکے بعد صوبے کے دیگر سیکٹرز متاثر ہوئے ہیں

بلوچسان میں زراعت جنگلات ،سڑکوں کی تعمیر ،لائیو اسٹاک ،توانائی ایسے سیکٹرز جن میں کام کرنے کی ضرورت ہے زراعت اور لائیو اسٹاک بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ بھی پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں جس کی وجہ سے یہ شعبہ بہت متاثر ہورہا ہے ہم توانائی کے شعبے میں بھی پیچھے ہیں

صوبے کا 70فیصد حصہ نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں ہم نے سولر ائزیشن پر کام کیا جس سے توانائی کامسئلہ حل ہوسکتاتھا لیکن یہ بھی پی ایس ڈی میں شامل نہیں سڑکوں کی تعمیر کے بغیر ترقی ناممکن ہے

پی ایس ڈی پی کسی حو ا لے سے بند نہیں ہے اس پر کام چل رہاہے لیکن صرف ان سیکٹرز میں کام ہورہاہے جہاں عدالت نے نشاندہی کی ہے ہر نئی حکومت اپنی پالیسی لیکر آتی ہے لیکن عدالتی حکم کی وجہ سے ہمارے ترقیاتی منصوبے محدود ہوگئے ہیں ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

انہوں نے کہا کہ ہم نے یکم ستمبر2018ء کے بعد پی ایس ڈی پی ریویو کمیٹی بنائی اور ہرشعبے کے حوالے سے کیٹگریز بنادی ہیں اسکیمات کا جائزہ لیا گیا کہ کن اسکیمات پر کتنا کام ہواہے اسکے بعد ہم نے سب سے بڑا فیصلہ یہ کیا کہ تقریباً 40بلین روپے کی 411اسکیمات جو70سے80فیصد تک مکمل ہونے کے باوجود گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے تاخیر کا شکار ہیں انکو مکمل کرنے کیلئے کام شروع کیا گیا

تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ پی ایس ڈی پی بلاک ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ابتک 8سے 10ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں پی ایس ڈی پی میں 1500آن گوئنگ

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسکیمات ہیں جن کی لاگت 37بلین روپے ہے ان پر بھی کام کیا جارہا ہے ۔

ہم عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ وہ جو سیکٹرپی ایس ڈی پی میں شامل نہیں انکو بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں قوانین میں اتنی ترامیم نہیں ہوئیں جتنی ہم نے کی ہیں ہم نے انڈولمنٹ فنڈ،گڈگورننس ،سماجی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں میکنزم متعارف کروائے ہیں بلوچستان میں 1936کا بلڈنگ کوڈ اور 1879ء کا فارسٹ ایکٹ نافذ تھا ان میں بھی ترامیم کی جارہی ہیں ۔

جام کمال خان نے کہا کہ2019-20ء کے بجٹ میں اپنی ترجیحات کو شامل کریں گے تاکہ عوام کوریلیف مل سکے لیکن اسکے لئے ہمیں عدالت کا تعاون درکار ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کا قصور ہم پرنہ آنے دیا جائے اگر ہم قانو ن پر عمل کر رہے ہیں توہمیں کام کرنے دیا جائے سی ایم آئی ٹی نے 800سے 900اسکیمات پر ایکشن لیا ہے ہم اپنا احتساب خود بھی کر رہے ہیں

نیب زدہ سزا یافتہ پلی بارگین کرنے والے افسران کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنادی گئی ہے جوایسے افسران کا تعین کریگی اور ہم انکے خلاف کارروائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 9فیصدہے ہمیں دوکمیٹیوں میں نمائندگی ملی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اپنے حصے سے زیادہ لینے کی کوشش کریں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کا بجٹ ہمیشہ خسارے کا ہوتاہے ہم نے پی ایس ڈی پی کو ریشنلائز کرکے 500ارب میں سے 2سے اڑھائی سو ارب کی اسکیمات کو ختم کیا ہے اس سے صوبے پر بوجھ کم ہوگا

آمدن میں اضافے کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بی آر اے اور مائنز منرلز میں نئی پالیسیاں لاکر صوبے کی آمدن میں اضافہ کیا جائے گا ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے آخر تک صوبے کی آمدن کو 15ارب سے بڑھاکر25سے 30ارب تک لیکر جائیں گے ۔

انہوں نے بتایا کہ 1800سے 1900اسکیمات ایسی ہیں جن کے بنیادی تقاضے ہی پورے نہیں کئے گئے جنہیں عدالت کے حکم پر ختم کردیا ہے جس محکمے میں یہ اسکیمات بنائیں وہ خود گواہ بن گئے کہ یہ غلط ہوا ہے جنہوں نے غلطی کی انہیں سزادینی چاہئے افسران کو خود چاہئے تھاکہ جب کوئی غلط کام ہورہا تھا تو وہ پی ایس ڈی پی کی کتاب پر دستخط ہی نہ کرتے اورعدالت جاتے کہ صوبے میں غلط کام ہورہا ہے کمی بیشی ضرور ہوتی ہے لیکن جہاں بڑے پیمانے پر غلط کام ہورہا ہو اسکے خلاف ایکشن ہونا چاہئے ۔

پی ایس ڈی پی کے ٹھیک ہونے سے مسائل حل ہونگے ہم صوبے کے مفاد میں فیصلے کرناچاہتے ہیں دس اسکیمات کی وجہ سے 90اسکیمات کو بند نہیں کرنا چاہئے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہت سی اورچیزیں جام ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو اعتراض ہورہا ہے ہم پی ایس ڈی پی پر کام کر رہے ہیں اگر عدالت سے اجازت ملے تو دو دن میں ٹینڈر کرکے کام شروع کرسکتے ہیں ہم ایسا نظام بنارہے ہیں جس میں پہلے 30سے 40فیصد فنڈز ریلیز کرکے اسکیم پر کام شروع کیا جائے تاکہ جون ،جولائی تک ہم پر بوجھ نہ ہو ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ1936ء کے بلڈنگ کوڈ اور1879ء جنگلات ایکٹ میں صوبائی حکومت ترامیم لارہی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.