بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

0

ویب رپورٹ

بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے۔

بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان میں مجموعی طور پر ایڈز کے سات ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔

جن میں دو ہزار سے زائد کیسز صرف کوئٹہ شہر میں رپورٹ ہوئے۔ ان کیسز میں ایک ہزار سے زائد مرد، 472 خواتین، 99 بچے اور 36 ٹرانس جینڈر شامل ہیں۔

ہیلتھ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (ہارڈ) بلوچستان کے زیر اہتمام صحافیوں کے لیے منعقدہ آگاہی تقریب میں مقررین نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی۔

ہارڈ بلوچستان کے سربراہ ضیاء بلوچ نے ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں صوبہ بھر میں 2358 کیسز سامنے آئے۔

جبکہ بلوچستان کے چھ اضلاع کوئٹہ، تربت، گوادر، لورالائی، شیرانی اور نصیر آباد ہائی رسک پر ہیں۔

تر بت میں 339 رجسٹرڈ مریض ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت بلوچستان کے 36 اضلاع میں سے صرف پانچ اضلاع میں ایڈز کے مریضوں کے لیے سینٹرز بنائے گئے ہیں۔

جو انتہائی کم ہیں۔ یہ سینٹرز کوئٹہ، تربت، ڈیرہ مراد جمالی اور حب میں قائم ہیں۔

مقررین نے تقریب میں کہا کہ عوام میں شعور اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ایڈز سے متاثرہ مریض بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بھی جینے کا حق ہے۔

ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس مرض کو عیب سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ افراد ٹیسٹ کرانے کے بجائے مرض کو چھپا لیتے ہیں اور یہ مرض ایک متاثرہ شخص سے دوسرے لوگوں میں باآسانی پھیل جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایڈز کا مرض استعمال شدہ سرنج، حجام میں کٹنگ کے دوران زخم لگنے اور غیر محفوظ جنسی تعلقات کی وجہ سے پھیلتا ہے۔

ہمارے ہاں حجام کی دکانوں میں صفائی ستھرائی اور ایس او پیز کا مکمل فقدان ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

گلی کوچوں میں قائم حجام کی دکانوں میں ایک ہی بلیڈ سے لوگوں کی داڑھی بنائی جاتی ہے۔

حجام کی دکانوں میں استعمال ہونے والے اوزاروں کی صفائی اور سینیٹائز کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، اور حجام مالکان گندے اور میلے کچیلے تولیے استعمال کرتے ہیں۔

اس طرح ہم ایڈز سمیت دیگر بیماریوں پر قابو پانے کے بجائے انہیں مزید پھیلا رہے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ صحافی اور غیر سرکاری ادارے مل کر معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ضیاء بلوچ نے مزید کہا کہ ہارڈ بلوچستان دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایڈز کے حوالے سے آگاہی پروگرام پر کام کر رہی ہے۔

ہم نے کوئٹہ اور حب چوکی میں تقریباً دو ہزار ٹیسٹ کرائے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر سرکاری اداروں کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے ہمارے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ لوگوں کو ایڈز اور دیگر امراض سے بچانے کے لیے آگاہی دے سکیں۔

یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس مہلک مرض کے خلاف لڑیں اور معاشرے میں اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔

ایڈز سے متاثرہ افراد کو معاشرتی قبولیت اور حمایت فراہم کریں تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.