زخمیوں کو لانےوالے کی لاش آگئی ۔۔۔۔!

رپورٹ :مرتضیٰ  زہری 

کوئٹہ کے علاقے خیزی چوک پر کوچ کمپنی میں دھماکے کے بعد پولیس اور رضاکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کے جمع ہونے کے بعد دوسرے دھماکے میں ایمبولینس رضاکار ہلاک ایس ایچ او سمیت دس دیگر افراد زخمی ہوگئے

چھیپا ایمبولینس کے ذمہ داران کے مطابق نعیم ہمارے ادارے کا سب سے خوش اخلاق اور پرتیلا رضا کار تھا

چھیپا ایمبولینس سروس کے انچارج جمال شیخ کے خیزی چوک پر دھماکے کی اطلاع ملنے پر اس نے گاڑیاں روانہ کیں جنہوں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا نعیم اپنی مرضی سے وہاں رکا رہا کہ دوسری گاڑی آئے تو وہ اس میں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرے

جمال شیخ نے آبدیدہ آٓنکھوں سے ”بلوچستان24“ کو بتایا کہ نعیم گزشتہ تین سال سے ہمارے ساتھ کام کررہا تھا اور وہ سب کیساتھ انتہائی خوش اخلاقی اور بہتر برتاؤ کرتا تھا

جمال شیخ کے مطابق وہ ایسا رضا کار تھا جو ہمارے تمام رضا کاروں کیلئے اثاثہ تھا اور تمام رضا کار اس کے جانے سے بہت بڑا خلا محسوس کررہے ہیں

جمال شیخ کے بقول:وہ سب کیساتھ ہنسی مذاق اور خوش اخلاقی سے پیش آتاتھا یہی وجہ کہ ہمارے سب ساتھی سمجھتے ہیں کہ وہ نہ صر ف اپنے گھر بلکہ ہم سب کے گھروں کو ویران کر گیا ہے اس لیے تما م رضاکار رنجیدہ اور اس صدمے کے اثرات سے نہیں نکل پارہے ہیں

واضح رہے کہ چھیپا ایمبولینس بلوچستان میں ایدھی ایمبولینس کے بعد دوسری بڑی سروس ہے جو کا م کررہا ہے یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اس ادارے کا رضاکار نشانہ بنا ہے

ہلاک ہونے والے رضاکار کے ساتھ غم سے نڈھال ۔تصویر بلوچستان 24

جمال شیخ کے مطابق ویسے ہمارے سارے رضاکار ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں لیکن نعیم واحد رضاکار تھا جو ہمیشہ پہل کرکے ایمبولینس کو چلا کرکے جائے وقوعہ پر پہنچتا تھا

یاد رہے اس دھماکے میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر کوریج کرنیوالے دو صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں جن کا تعلق دنیا نیوز چینل سے ہے جن میں رپورٹر ابرار احمد اور کیمرہ مین رحمت اللہ شامل ہیں

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کے مطابق ملک دشمن عناصر امن وامان خراب کرنے کی سازش کررہے ہیں جو عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے مطابق امن وامان کے حوالے سے اعلیٰ سطٰحی اجلاس طلب کرلیا گیا جس میں سکیورٹی امور کا از سر نو جائزہ لیا جائیگا

خیزی چوک پر دبم دھماکے میں ہلاک والے رضا کار نعیم کی تصویر

سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق کلی خیزی دھماکے کے 9زخمی سول ہسپتال لائے گئے جن میں چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ایک رضاکار اس واقعہ میں ہلاک ہوا

واقعہ میں زخمی ہونیوالے ایک اہلکار محمد علی کے مطابق ہم وہاں پہلے دھماکے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی گاڑی کیساتھ کھڑے تھے کہ دوسرا دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں پھیل گیا

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق پہلا دھماکہ سلنڈر کا تھا دوسرے دھماکے کی تفتیش جاری ہے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ صوبے میں ریڈ الرٹ کے باعث اس طرح کا واقعہ رونما ھونا باعث تشویش ھے

واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر فورسز نے ایک کارروائی کے دو خود کش حملہ آوروں سمیت پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا حکام کے مطابق ہلاک ہونیوالے شدت پسندوں کا تعلق شدت پسند تنظٰم داعش سے تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں