سی پیک کے بدلے ایک بوند پانی….!

0

تحریر شیخ عبدالرزاق

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں طویل خشک سالی کے باعث بیس اضلاع سنگین قحط کی صورتحال سے دوچار ہیں

لائیو اسٹاک اور زرعی شعبے کی تباہی کے بعد خوراک کی قلت سے مجموعی صورتحال مزید سنگین ہوکر انسانی المیہ جنم لینے کی جانب گامزن ہے

ضلع کچھی اور پاکستان کو ایٹمی شناخت دینے والے ضلع چاغی کے کئی دیہات قحط کی وجہ سے ویران ہوچکے ہیں

لوگوں کی نقل مکانی کے باعث ماضی کے گنجان آباد علاقے ویرانیوں کا منظر پیش کررہے ہیں

یہاں گھر دکانیں مساجد اور مندر تو موجود ہیں لیکن ان میں بسیرا کرنے والے مکین نہیں رہے آباو و اجداد کے گھروں کو نہ چھوڑنے والے رہے سہے افراد مال مویشیوں چرند پرند کی ہلاکتوں کے بعد اب غذائی قلت کے باعث اپنے معصوم بچوں کو بلکتا دیکھ رہے ہیں

بلوچستان کے ان قحط زدہ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات اور طبی مشاورت کی عدم دستیابی کے باعث صورتحال انتہائی تشویش ناک اور گھمبیر ہے

مال مویشیوں کے حوالے سے ملک گیر شہرت کے حامل شہر بھاگ ناڑی میں پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ تالاب اور جوہڑوں میں گزشتہ سال کا جو تھوڑا بہت سبز بدبودار اور آلودہ پانی موجود ہے

ایک سو اسی لیٹر کا زہر آلود یہ ڈرم ڈیڈھ سو روپے میں اڑتالیس گھنٹوں کی ایڈوانس بکنگ پر منت ترلوں اور سفارش کے ساتھ ہی ملنا ممکن ہے

یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ یہ اسی بھاگ ناڑی کا ذکر ہورہا ہے جہاں انسان اور جانوروں کے ایک ساتھ پانی پینے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے سوموٹو لیا اور بلوچستان حکومت کیحکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے

یہ معاملہ پاکستان کی اعلی ترین عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں حسب روایت حکام روایتی طفل تسلیوں سے معزز عدالت کو مطمئن کرنے کی تگ و دو میں ہیں

علاقے کی معتبر شخصیت اور مقامی بلدیاتی ادارے کے منتخب رکن ارباب قادر بخش ایری نے بتایا کہ قحط سالی کے باعث درجنوں دیہات خالی ہوچکے ہیں

خوراک اور چارے کی قلت کے باعث جنگلی حیات تیزی سے معدوم ہورہی ہیں اور سرد موسم کے باوجود کئی کئی میل تک پانی کی عدم دستیابی کے باعث مرے جانور اور بلکتے پرندے جابجا طور پر نظر آتے ہیں

جانوروں اور چرند پرند کی ہلاکتوں کے باعث اب کسی بھی وقت انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور مارچ کے بعد گرمیوں کی آمد کے ساتھ صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی

ارباب قادر بخش ایری کا کہنا تھا کہ بھاگ ناڑی میں آبی قلت کی ایک بڑی وجہ جہاں بارشیں نہ ہونے اور موسمی تبدیلی کے باعث قحط سالی ہے

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,717

وہاں شہریوں کو متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کی راہ میں مرکزی رکاوٹ انتظامی عدم دلچسپی غفلت اور عدم توجہی بھی ہے

بھاگ شہر کو متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی کے لئے تین مختلف واٹر سپلائی اسکیمیں موجود ہیں

جن میں پٹ فیڈر واٹر سپلائی اسکیم سنی واٹر سپلائی اسکیم اور شوران واٹر سپلائی اسکیم شامل ہیں تاہم یہ تینوں اسکیمیں عوام کو پانی کی فراہمی میں یکسر ناکام رہی ہیں

صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ انجینرنگ کے زیر انتظام ان اسکیمات کے ذمہ دار بجلی کی عدم ترسیل یا وولٹیج کی کمی کا ملبہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی پر ڈال کر ذمہ داریوں سے مبرا ہوجاتے ہیں

تو واپڈاحکام واجبات کی عدم ادائیگی کا ذمہ دار مذکورہ محکمے کو قرار دیتے ہوئے پیاسے عوام کو میدان کربلا کے صبر کی تلقین کرکے راہ فرار اختیار کرتے ہیں

رہی سہی کسر بھاگ شہر کے نواح میں موجود ان دیہاتوں کے پیاسے عوام پانی چوری کرکے پوری کردیتے ہیں جو ان واٹر سپلائی اسکیموں کی گزر گاہوں پر واقع ہیں

ارباب قادر بخش ایری کا کہنا تھا کہ ان سکیمات کو فعال رکھنے کے لئے ان کا انتظام و نگرانی ایف سی کو دے دی جائے اور تین مقامات سنی۔میسر۔اور حاجیجہ میں ایف سی چیک پوائینٹ قائم کرکے صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے

ارباب کا کہنا تھا کہ ریاست سے ہم پینے کے لئے پانی مانگتے مانگتے بے بس و ناامید ہوچکے تو متعلقہ محکمے طفل تسلیاں دیتے دیتے ڈھیٹ اور بے حس ہوچکے ہیں

معزز عدالت عظمی کے از خود نوٹس پر عدالت کو مطمئن کرنے کے لئے افسر شاہی وہی روایتی طریقے اپنا رہی ہے جو کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد کے ایوانوں تک پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں قحط سالی پر صوبائی حکومت نے محض بلوچستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھاڑتی کے توسط سے محدود راشن کمبل اور خیموں کی وہ روایتی کھیپ پہنچائی ہے

جو سیلاب سے لیکر زلزلے اور بارشوں سے لیکر آندھی وطوفان کے مقاصد کے لئے سال میں ایک ہی دفعہ خرید کر سرکاری مال خانے میں اسٹاک کردی جاتی ہیں

اور اکثریت میں ان کی تقسیم بھی بھوک و افلاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ عام انتحابات میں ووٹ دینے یا نہ دینے کی سزا یا جزاء کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

لیکن اب قدرتی آفات سے نمٹنے کے اس واحد ادارے نے بھی نوید سنادی ہے کہ اس کے سالانہ فنڈز بھی ختم ہوچکے ہیں

اور ادارہ مالی بحران کا شکار ہے ایک ایسے وقت میں جہاں عالمی تجارتی روٹ سی پیک کی کے تناظر میں بلوچستان کو مستقبل کا شنگائی اور دبئی قرار دیا جارہا ہے
وہاں کے باسی حکمرانوں سے ایک گیلن پانی کے طلبگار ہیں

تاکہ اپنے بچوں کی پیاس بجھا کر اندون خانہ مسائل سے نمٹ کر گھروں سے نکلیں اور سی پیک کی تعمیر و ترقی میں عالمی تجارتی منڈیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کمربستہ ہوں

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.