بک اسٹالز کی مسماری: اخبار فروشوں کا رزق حلال چھیننے کی کوشش ہے

0

ویب رپورٹ

کوئٹہ: باچا خان چوک پر واقع اخبارات کے سٹالز کو بلڈوز کرنے کا واقعہ نے مقامی اخبار فروشوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

انجمن فلاح و بہبود اخبارفروشاں کے بیان کے مطابق، ان سٹالز پر کئی دہائیوں سے اخبارات اور رسائل فروخت کیے جا رہے تھے۔

جو ان کے رزق حلال کا ذریعہ تھے۔ اس واقعہ نے نہ صرف ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

پس منظر

انہوں نے بک اسٹالز کی تاریخ پچاس سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔

پہلے یہ بک اسٹالز کوئٹہ کے مختلف تھڑوں پر موجود تھے لیکن بعد میں حکومت نے انہیں باچا خان چوک میں ایک ساتھ جگہ فراہم کی۔

یہ جگہ اخبار فروشوں کے لئے نہایت اہمیت کی حامل تھی کیونکہ یہاں سے گزرنے والے شہری بڑی تعداد میں اخبارات اور رسائل خریدتے تھے۔

دو سال قبل بلدیہ نے ان سٹالز کو بلڈوز کر کے ان کا تمام سامان ضبط کر لیا، حالانکہ اس وقت یہ کیس عدالت میں زیر سماعت تھا۔

موجودہ صورتحال

گزشتہ روز اخبار فروش یونین کے عہدیداروں نے اطلاع دی کہ بلدیہ کے اہلکار دوبارہ آکر ان سٹالز کو بلڈوز کر گئے اور انہیں اخبارات اور سامان اٹھانے کا موقع بھی نہیں دیا۔

اہلکاروں نے عہدیداروں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور کوئی مناسب وضاحت فراہم نہیں کی کہ کیوں ان کے سٹالز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اطراف میں موجود کباب فروش، متفرق اشیاء فروخت کرنے والے اور دیگر تھڑے داروں کو کچھ بھی نہیں کہا گیا۔

قانونی و اخلاقی پہلو

ان بک اسٹالز کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، لیکن اس کے باوجود بلدیہ نے کاروائی کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

اخبار فروش یونین نے عدالت عظمیٰ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سخت نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ بغیر اطلاع کے ان لوگوں کو بے روزگار کرنا اور ان کا سامان ضبط کرنا ناانصافی ہے۔

اثرات

اس واقعہ سے اخبار فروشوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ان کا رزق حلال چھن جانے سے نہ صرف ان کے خاندانوں کی معیشت متاثر ہوئی ہے بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چھوٹے کاروباری افراد کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مطالبات

اخبار فروش یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کے سٹالز کو بحال کرے اور ان کے سامان کو واپس کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلدیہ کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے جنہوں نے بغیر کسی وجہ کے ان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے کیس کو فوری طور پر سنا جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے

نتیجہ

باکس اسٹالز کی مسماری کا واقعہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔

حکومت اور عدالت عظمیٰ کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور اخبار فروشوں کو ان کا حق دینا چاہئے تاکہ وہ اپنے روزگار کو جاری رکھ سکیں۔

ان کا رزق حلال ان کے خاندانوں کی زندگی کا ضامن ہے اور اس کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.