بلوچستان: زراعت کے فروغ میں اہم سنگ میل

0

 صوبائی وزیر زراعت میر علی مدد جتک نے جمعرات کو  محکمہ زراعت میں وومن ڈویژن فوڈ پروسیسنگ یونٹ کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر منعقدہ پروقار تقریب میں سیکرٹری زراعت داود بازئی، ڈائریکٹر جنرل واٹر مینجمنٹ فضل حق، ڈائریکٹر جنرل توسیعی ندیم اختر، ڈائریکٹر پروٹیکشن پلانٹ عارف شاہ کاکڑ، وومن ڈویژن کے سربراہ درے سیمی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ زمینداروں کو دیگر ممالک کی طرح ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے فوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور اسے مزید اضلاع میں بھی وسعت دینے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس یونٹ کے قیام سے زمینداروں اور کسانوں کے جو پھل ضائع ہو جاتے تھے، انہیں پراسیس کر کے مربع، جام اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمینداروں کو بیج، کھاد، ٹریکٹر اور دیگر ضروریات کی فراہمی میں سبسڈی دی جائے گی تاکہ وہ زراعت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

 اس کے علاوہ، انہوں نے پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے جدید لیبز کے قیام کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لیبز زیارت، نصیر آباد، قلات اور دیگر اضلاع میں بھی قائم کی جائیں گی تاکہ پھلوں اور سبزیوں پر اسپرے کے بعد ان کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

تقریب سے سیکرٹری زراعت داود بازئی، ڈی جی ایکسٹینشن ندیم اختر، وومن ڈویژن کی سربراہ درے سیمی اور ڈائریکٹر پروٹیکشن پلانٹ عارف شاہ کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔

 انہوں نے فوڈ پروسیسنگ یونٹ اور پیٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول لیب کی افادیت کے حوالے سے شرکاء کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

قبل ازیں صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے فوڈ پروسیسنگ یونٹ اور پیٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول لیب کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان کے کام کو سراہا۔

یہ اقدام نہ صرف زمینداروں اور کسانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے۔

اس یونٹ کے قیام سے زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

 جس سے زراعت کے شعبے میں ترقی ممکن ہو سکے گی۔

 صوبائی وزیر علی مدد جتک کے عزم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت زراعت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.