بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد صوبے کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے پیر 8 ستمبر کو صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی ادارے، اسپتال، ایئرپورٹس اور ریلوے سمیت تمام اہم شعبے معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔
جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، تحریک انصاف کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ولایت حسین جعفری نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ ہڑتال کے دوران کاروبار، ٹرانسپورٹ، ریل اور ہوائی سفر معطل رہے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ بی این پی کے جلسے پر خودکش حملہ دراصل صوبے کی سیاسی قیادت کو راستے سے ہٹانے کی ’سازش‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں اور دباؤ سے ان کی آئینی و جمہوری جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شاہوانی سٹیڈیم کے قریب خودکش حملہ "انسانیت کے قتل” کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا:”ہم نے کون سا جرم کیا ہے؟ ہم تو صرف جلسہ کر رہے تھے، جو ہمارا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اگر ہم سب دھماکے میں مارے جاتے تو اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوتا؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو ان کے کارکن اور بچے یہ جان لیں کہ ان کے قاتل وہ لوگ اور ادارے ہیں جو جمہوریت اور آئین کو نہیں مانتے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور یہاں کے وسائل پر سب پاکستانیوں کا حق ہے، لیکن پہلا اور اصل حق مقامی عوام کا ہے۔
ان کا کہنا تھا: "ہم زکوٰۃ یا خیرات نہیں مانگتے، ہمیں اپنے وسائل اور سرحدوں پر آزاد تجارت کا حق دیا جائے۔ اگر ہمارے حقوق نہ دیے گئے تو ہمیں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا پڑے گا۔”
حکومت کا ردعمل
ادھر حکومت بلوچستان نے اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال کال کے جواب میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق پیر کے روز تمام اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری لازمی ہوگی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان نے اپنے ایک تفصیلی پریس نوٹ میں کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن کسی کو بھی زبردستی سڑکیں یا شاہراہیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی، اور عوام کو مشکلات میں ڈالنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز فعال رہیں گے، ان کی بندش برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، ہائی ویز، اسپتال، ایمرجنسی سروسز، فیول اسٹیشنز، عوامی ٹرانسپورٹ اور مارکیٹس کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق: تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے گی۔ ایمبولینسز اور ادویات کی فراہمی برقرار رہے گی۔عوام کی آزادیِ نقل و حرکت اور بنیادی سہولیات میں رکاوٹ ڈالنے والے قانون کے تحت مجرم قرار پائیں گے۔
محکمہ داخلہ نے کہا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے والوں سے "آہنی ہاتھوں” سے نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ بی این پی کے جلسے کے باہر حالیہ خودکش دھماکے میں جانی نقصان نے صوبے کی سیاست میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان کی سیاسی آواز دبانے کی کوشش ہے، جبکہ حکومت امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات پر زور دے رہی ہے۔