میرے خیال والی اسمبلی۔۔۔!

بلوچستان 24

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران صدارتی آرڈیننس کی منظوری کیلئے ووٹنگ ہوئی اور اس دوران دلچسپ صورتحال پیش آئی جب ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے پہلے بل پیش کیا اورکہا کہ جو اس بل کے حق میں ہیں وہ ہاں کہیں اور جو مخالف ہیں وہ نہ کہیں

اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ میرے خیال میں اس بل کے حق میں ہاں بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے منظور کیا جاتا ہے

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے رولز کے مطابق کوئی بھی بل اسمبلی سے منظوری کے دوران ووٹنگ کی جاتی ہے

ووٹنگ میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ بل کے حق میں کتنے ووٹ آئے اور کتنے مخالفت میں پھر اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ پا س ہوا یا منظور نہ ہوسکا

جبکہ قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر نے بل کے حوالے سے کوئی ووٹنگ نہیں کروائی اور رولز کو بلڈوز کرکے کہا کہ میرے خیال میں بل کے حق میں ہاں بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے منظور کیا جاتا ہے

موجودہ حکومت کی طرف سے یہ اقدام نہ صرف اسمبلی کو بلڈوز کرنے کی مثال ہے

دوسری جانب حکومت کی طرف سےبعض اقدامات صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لائے جارہے ہیں

جس کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری کرلی ہے

میڈٰیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن رانجھا نے صدر مملکت عارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری کا انکشاف کیا ہے

محسن رانجھا کے مطابق صدر مملکت نے غیر آئینی کام کیا جس کے بعد اپوزیشن جماعتیں جلد مشاورت کے بعد صدر پاکستان کے مواخذے کی تحریک لائینگے

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں