پارک یا خانہ بدوشوں کی قیام گاہ

رپورٹ عبدالکریم

لنجو پارک جو کوئٹہ سےتقریباً دس کلومیٹر مسافت پر کوہ چلتن کے دامن مستونگ کے علاقے دشت میں واقع ہے یہ پارک دیگر پارکوں کے نسبت ایک مختلف طرز پر اس کی تزائین کی گئ ہے ب یہاں جدید طرز کے فواروں اور جھولے کے ساتھ بلوچستان کی خانہ بدوشوں کی طرز زندگی کی رنگوں کو یکجہاں کیا گیا ہے سیاحوں کیلئے گدان جس کو پشتو میں کیدی کہتے جو اون سے بنائے جاتے ہے اور یہ گدان خانہ بدوشوں کے گھر ہوتے ہیں اور خانہ بدوش زیادہ تر پہاڑوں کے دامن میں آباد ہوتے ہیں ۔

اس پارک میں بھی جا بجا گدان کوہ چلتین میں سیاحوں کے آرام کیلئے لگائے گئے ہیں جس سے یہ پارک خانہ بدوشوں کی قیام گاہ کا منظر پیش کرتا ہے اور یہی چیز سیاحوں کو کھنچ کرلاتی ہے اور اس کے ساتھ مٹی سے خانہ بدوشوں کے مخصوص طرز کے سالن پکانے کے کیلئے اگ جلانے کے جگہیں بنائے گئے اور کڈی کباب کیلئے بھی تندور بنایا گیا ہے جس میں یہاں پکنک مانے والے اپنے لیے بلوچستان کا مشہور خوراک کڈی کباب پکاتے ہیں.

عصمت اللّٰہ کوئٹہ کا رہائشی ہے وہ پہلی مرتبہ لنجو پارک آیا ہے بلوچستان24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں دادی امی اپنے دور کے دور کی کہانیاں ہمیں سناتی تھی کہ کس طرح وہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے اور ایک پورا خاندان ایک ہی گدان ( خیمہ) میں رہتے تھے اور اس وقت خلوص اور محبت تھی ان کے بقول کہ لنجو پارک آکر وہ کچھ لمحوں کیلئے تصور میں دادی اماں کی زمانے میں گئے اور واقعی دوستوں کے ساتھ ایک ہی خیمے میں بیٹھ کر ایک سکون محسوس ہوا ہے،

عصمت اللّٰہ کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بہت سے پارک ہے لیکن لنجو پارک ایک منفرد اور دلکش پارک ہے اس پارک نے بلوچستان کی ثقافتوں کا رنگ سمیٹا ہوا ہے جو اسے منفرد بناتا ہے حکومت اس پر توجہ دئے اور اسے اور خوبصورت بنائے تاکہ بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں آئے

شیرعلی کرد لنجو پارک کا مالک ہے شیرعلی نے بلوچستان 24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل دشت ایک پسماندہ علاقہ ہے ہم نے ایک بنجر زمین کو آباد کرکے پارک بنایا اور یہاں چڑیا گھر اور سوئمنگ پول بنایا تاکہ عوام یہاں آ کر اپنا وقت بہتر طور پر گزار سکیں اور انھیں تفریح کا ایک بہتر ماحول میسر ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بلوچستان کی ثقافت سے روشناس کرواسکیں اور انہیں بتاسکیں کہ ہمارے آباواجداد کس طرح کی زندگی بسر کرتے تھے اس مقصد کیلئے ہم نے پارک میں گدان لگائیں تاکہ سیاح ان بیٹھ کر عملی طور پر ہمارے آباواجداد کی زندگی کو محسوس کرسکیں اس سے ہماری ثقافت کی ترویج ہوگئ

شیرعلی کے بقول اس پارک میں لوگ دوردارز علاقوں بولان ،کانک اور نوشکی سے اکر رات گزارتے ہیں جو کہ دیگر پارکوں میں ممکن نہیں ہے ان کے بقول وہ یہاں ایک نجی شکارگاہ بھی بنارہے ہیں جہاں پر شکاریوں سے فیس اداء کرکے شکار کریں گے.
لنجو پارک چھ ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے یہ پارک دوسو ایکڑ زمین پر محیط ہے اور اس پر تاحال کام چل رہا ہے.

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں