خضدار میں قحط سالی سے نمٹنے کیلئے تمام ادارے سر جوڑ کر بیٹھ گئے

0

خضدار۔۔۔۔۔۔۔۔رپورٹ ندیم گرگناڑی

حکومت حالیہ قحط سالی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کو تنہانہیں چھوڑے گی متاثرہ علاقوں میں بہت جلد میڈیکل کیمپ اور ضروری راشن خوراک سمیت جانوروں کے لئے بھی میڈیکل کیمپ اور چارہ بھی تقسیم کریں گے

کمشنر قلات ڈویڑن بشیر احمد بنگلزئی کاڈویژنل ہیلتھ کمیٹی اور قحط سالی سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے لئے جائزہ اجلاس سے خطاب

اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر قلات ڈویڑن امیر فضل اویسی، ڈویڑنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر محمد مراد مینگل،ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر سومار خان، ڈی ایچ او آواران ڈاکٹر نور بخش بزنجو، ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر محمد نسیم،ڈی ایچ او شہید سکندر آباد سوراب ڈاکٹر عبدالحمید

ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی خضدار مجیب بلوچ،ڈی ایس ایم سوراب ڈاکٹر شفیع مینگل، نمائندہ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر محمد عمر مینگل، پرنسپل نرسنگ اسکول خضدار سلماگل، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک خضدار ڈاکٹر محمد انور زہری،ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک شہید سکندر آباد سوراب،

ڈاکٹر محمد جاوید ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک قلات، ڈاکٹر محمد یونس ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک مستونگ، ڈاکٹر محمد سعید ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک آواران، ڈاکٹر وسیم احمد ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک لسبیلہ ڈاکٹر منور احمد اے سی پی قلات ڈویڑن عبدالغنی عالیزئی شاہنوازنے شرکت کی

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

متعلقہ حکام نے کمشنر قلات اپنے اضلاع میں طبی سہولیات اور قحط سالی سے متاثرہ مال مویشیوں سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لئے تجاویز پیش کئے

کمشنر قلات ڈویژن نے کہا کہ قلات ڈویژن میں گزشتہ سات سال سے خشک سالی کی صورت حال ہے جس کے نتیجے میں تمام شعبے شدید متا اثر ہیں

خصوصا ذراعت اور مالداری کا شعبہ بری طرح متا ثر ہے جب کہ قلات ڈویژن میں عوام الناس کا ذریعہ بھی شعبہ ذراعت اور مالداری پر منحصر ہے

بارشیں نہ ہونے سے پانی کا مسئلہ بھی دن بہ دن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور امراض بھی جنم لے رہے ہیں مال مویشیوں کی زندگی بھی خطرات سے دوچار ہے اور بعض علاقوں میں جاندار مررہے ہیں

محکمہ صحت اور محکمہ حیوانات کے منتظمین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ہمہ وقت حاضر ہونے کی تلقین کریں

اسپتالوں اور حیوانات کے شفاخانوں میں ادویات و دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیئے بھی آگاہ کریں

تاکہ صوبائی محکمہ پی ڈی ایم اور صوبائی حکومت کو ان مسائل سے آگاہ کیا جائے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.