پاکستان میں صرف 72 ہزار لوگوں کی آمدنی 2 لاکھ سے زائد ہے،عمران خان

0

ویب ڈیسک

حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لئے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے، کاروباری برادری میری ٹیم بن کر غربت کے خاتمے اور معیشت کے استحکام میں معاون کردار ادا کرے، قوم پر بھرپور اعتماد ہے جب تک قوم اکٹھی کھڑی رہتی ہے اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

وزیراعظم عمران خان کا راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام 11 ویں آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ انسان صرف نیت اور کوشش کرتا ہے، کامیابی اور عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کسی بات پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج سب افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کی کامیابیوں کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور کبھی بھی تکبر کی بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب بھی مقابلہ ہوتا ہے تو کسی کو نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کس راستے پر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پوری قوم پر اعتماد ہے، جب ایک قوم نظریے کے تحت اکٹھی رہتی ہے تو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ وزیراعظم نے اپنے وژن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری 22 سالہ جدوجہد کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان کے غریب لوگوں کو غربت سے کیسے نکالا جائے، شوکت خانم ہسپتال غریبوں کے لئے بنایا ہے اور نمل یونیورسٹی بھی اسی لئے بنائی کہ ایک عام گھرانے کا بچہ بریڈ فورڈ کی ڈگری لے سکے جب تک یہ احساس بیدار نہیں ہو گا کہ عام آدمی کی زندگی کیسے بہتر کی جا سکتی ہے، تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی یہی کہا تھا کہ پاکستان فلاحی ریاست بنے گا، مدینہ پہلی فلاحی ریاست تھی اور اس کے بعد مغربی ممالک نے فلاحی ریاست کے نظریہ کو اپنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بھلائی کے لئے پیغمبر بھیجے کیونکہ انسانی معاشرے اور جانوروں کے معاشرے میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب شیر کا پیٹ بھر جائے تو وہ سینکڑوں ہرن دیکھ کر بھی شکار نہیں کرتا لیکن جب انسان گر جائے تو جانوروں سے بھی زیادہ گر جاتا ہے، جانوروں کے معاشرے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے جبکہ انسانوں کے معاشرے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جن میں انصاف اور رحم شامل ہے۔

دنیا کے 62 افراد کے پاس تین ارب سے زائد انسانوں سے زیادہ دولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت کے ارتکاز سے معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہوتی ہیں، غریب اور امیر میں فرق بڑھتا ہے، دولت کی ہوس کی کوئی حد نہیں ہوتی، انصاف اور رحمدلی سے بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

کاروباری برادری میری ٹیم بنے، دولت کی پیداوار، غربت کے خاتمے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ چین جیسے ملک نے بھی غربت کے خاتمے کے لئے دولت کی پیداوار اور اس کے بعد روزگار جیسے مواقع پیدا کر کے غربت کا مقابلہ کیا، مدینہ اور دیگر مہذب معاشروں میں تدریجی ٹیکسیشن کا نظام رائج ہے۔

انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت کاروباری برادری کی تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے انہیں آگے لے کر جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت اداروں میں اصلاحات اور ٹیم کو بہتر بنا رہی ہے، اب ہم ماہرین کی طرف جا رہے ہیں،

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ایف بی آر میں اصلاحات نہیں ہوں گی ہم ٹیکسز اکٹھے نہیں کر سکیں گے، اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 60 سالوں میں چھ ٹریلین کے قرض لئے گئے جبکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران بیرونی قرض 30 ٹریلین تک پہنچ گیا، ان قرضوں پر سالانہ دو ہزار ارب روپے سود، اڑھائی ہزار ارب صوبوں کے لئے جبکہ 1700 ارب دفاع کے لئے رکھا جاتا ہے، اسی لئے ہمارا بجٹ خسارے سے تیار ہونا شروع ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بیرونی قرضے 30 ہزار ارب تک پہنچانے والے اب ایوانوں میں معتبر بن کر تقریریں کرتے ہیں، ان کو شرم بھی نہیں آتی، انہی کی وجہ سے آج بیرونی قرضے اس انتہا کو چھو رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر کوئی گھر مقروض ہو جائے تو اسے قرض سے نجات دلانے کے لئے کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے دولت بنائی جاتی ہے اور پھر گھر کو ٹھیک کیا جاتا ہے اسی طرح ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو پاکستان لایا جائے، آنے والے دنوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔

انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ تمام معاملات بہتر ہوں گے، پاکستان کے پاس بہت مواقع ہیں، اگر صرف سیاحت کے شعبے کو ہی ہم بہتر کر لیں تو جاریہ خسارہ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو کاروبار دوست ادارہ بنائیں گے کیونکہ اگر ٹیکس جمع کرنے والا ادارہ ٹھیک نہ ہو تو سیکورٹی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ہماری پوری کوشش ہے کہ ایف بی آر کو اصلاحات کے ذریعے ٹھیک کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے ٹیکس کا ایک ایک پیسہ دھیان سے خرچ کریں گے، ٹیکس کا پیسہ چوری نہیں ہونے دیں گے، دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتا جب تک ٹیکس صحیح طور پر جمع نہ ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینا ایک قومی ذمہ داری ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ 21 کروڑ پاکستانیوں کے ملک میں صرف 72 ہزار لوگ ایسے ہیں جن کی آمدن 2 لاکھ سے زائد ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے کاروباری برادری حکومت کا ساتھ دے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ایکسپورٹ بڑھانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات کر رہی ہے، انہی اقدامات کی بدولت جاریہ خسارہ کم ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پہلے ہم کسی کی جنگ لڑ رہے تھے اور گالی بھی کھا رہے تھے لیکن جب قوم نے خودداری کا مظاہرہ کیا تو دنیا بھی یہ تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستانی قوم غیور اور خوددار قوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عدالت میں جھوٹی گواہی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، انگلینڈ جیسے ملک میں اگر جھوٹی گواہی دی جائے تو اس جھوٹے گواہ کو تین سال کے لئے جیل بھجوا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی مالیاتی (دوسری ترمیم) بل 2019ء کی منظوری کے بعد اب ٹیکسز کی ریفنڈنگ آسان ہو جائے گی۔

کاروباری برادری کے لئے آسانی پیدا کر رہے ہیں، سی پیک کے ساتھ سپیشل اکنامک زونز میں بھی کاروباری طبقے کو فائدہ ہو گا، کاروباری طبقے کے ساتھ ہماری معاشی ٹیم مسلسل رابطے میں ہے اور مشاورت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سالوں سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، انہیں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے تو ملک مزید ترقی کرے گا۔

تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.