!ایک تشویش۔۔۔

0

تحریر:
میر بہرام لہڑی

صوبے میں شفافیت اور اداروں میں احتساب کا مناسب اور مربوط خودمختیار ادارہ قائم ہونے جارہا ہے۔ اس ادارے میں 04 کمشنرز کی تعیناتی پہ ایک تشویش۔31 مئی 2024 کو بلوچستان سول سیکرٹریٹ میں بلوچستان کے پہلے انفارمیشن کمیشن کے قیام کے لیے انفارمیشن کمشنرز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز ہوئے۔

 

بمطابق قانون ان انٹرویوز میں 01 چیف انفارمیشن کمشنر جو کہ ریٹائر (20) گریڈ کا سرکاری ملازم یا کوئی ہائی کورٹ کا جج ہوگا/ہوگی، کی تعیناتی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ 03 کمشنرز تعینات کئے جائیں گے جنکی اہلیت ہائی کورٹ کے جج ہونے کا ہو، ایسا شخص جو( بی پی ایس- 20) یا اس کے مساوی طور پر حکومت پاکستان کا ملازم ہو یا رہا ہو علاوہ بریں سول سوسائٹی کا ایک فرد جس کو بڑے پیمانے پر معلومات عامہ، علمی میدان یا رائٹ ٹو انفارمیشن میں پندرہ سال سے کم کا تجربہ نہ ہو ، کو انفارمیشن کمشنر تعینات کیا جائے گا۔
بلوچستان میں پہلی انفارمیشن کمیشن بننے جارہی ہے۔ اس کمیشن کا کام بلوچستان میں حکومتی اداروں میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔

 

لہذا اس ادارے میں تعیناتی میرٹ پہ ہونا چاہیے، تاکہ اس قانون کے روح رواں عمل درآمد ہو اور جس مقصد خاص کے لیے سول سوسائٹی خاص کر ایک مقامی تنظیم ایڈ بلوچستان نے 2015 سے اپنے ایک رضاکار پلیٹ فارم “پبلک اکاؤنٹیبلٹی” فورم پہ جدو جہد کی جسے بالآخر فروری 2021 میں بلوچستان اسمبلی نے معلومات تک رسائی کا قانون 2021 پاس کی۔

 

اس قانون کو پاس کرانے میں “پبلک اکاؤنٹیبلٹی فورم” کے ممبرز بشمول مجھ سمیت سب کو مشکلات کا سامنا رہا ، ایک طرف بلوچستان اسمبلی سے قانون پاس کرانے میں تو دوسری جانب پھر اس کے “رولز آف بزنس” بنانے تک۔ اس دوران ہمیں شدت سے محسوس ہوا کہ لوگ اداروں میں شفافیت اور احتساب نہیں چاہتے اس پر مستزاد کرپشن کے بے لگام گھوڑے کو بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

مزید براں معلومات تک رسائی کا قانون بلوچستان میں عوام کے لیے ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس قانون کے ذریعے بلوچستان کا کوئی بھی فرد ایک سادہ کاغذ پر اس قانون کا حوالہ دے کر بلوحستان کے کسی بھی ادارے سے ہر قسم کی معلومات لے سکتا ہے۔

 

اگر وہ ادارہ ایک مہینے کے اندر سائل کو جواب دینے میں ناکام رہا تو اگلا مرحلہ یا دروازہ بلوچستان انفارمیشن کمیشن ہے۔ سائل اپنی درخوست متعلقہ ادارے کے خلاف جمع کرسکتا ہے اور اس تناظر میں کمیشن پابند ہے کہ وہ 60 دن کے اندر سائل کے درخواست پہ انصاف کے مطلوبہ تقاضوں کو پورا کرے!

 

بہ نظر غائر دیکھا جائے تو بلوچستان میں ایسے عوامی ادارے بھی موجود ہیں جہاں میرٹ پہ تعیناتی عمل میں لائی گئی ایسے ادارے روز افزوں پھل پھول رہے ہیں اور ایسے ادارے بھی وجود رکھتے ہیں، جہاں دوران تعیناتی شفافیت کی دھجیاں اڑائی گئیں لہذا وہ ادارے زبوں حالی اور پستی کی تصویر بن کر ارباب اختیار کا منہ چڑا رہے ہیں ۔

 

ایسے معتبر ادارے جہاں شفافیت کو پہلی ترجیح دی گئی، میں “بلوچستان کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن” ،”صوبائی محتسب برائے ہراسانی خواتین کا سدباب” اور “بلوچستان کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن ” ہے جہاں فوزیہ شاہین کو چیئرپرسن میرٹ پہ تعینات کیا گیا۔

 

ان کی میرٹ پہ تعیناتی اس ادارے میں بلوچستان کے خواتین کی حقوق کے حوالے سے ایک تاریخی اقدام ہے۔ اسی طرح جب صوبائی خاتون محتسب کی تعیناتی کو لے کر اب تک بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس چل رہی ہے بوجہ اسکے یہ ادارہ اب تک غیرفعال ہے۔

بلوچستان انفارمیشن کمیشن قانون کے تین سال پاس ہونے کے بعد بننے جارہا ہے اور پاکستان کے دوسرے صوبوں میں اپنی تین تین ادوار مکمل کرچکی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ بلوچستان میں تاخیر سے بننے کے باوجود میرٹ پہ پہلی انفارمیشن کمیشن بنے گی اور اس طویل انتظار کا ازالہ کرے گی۔
بقول شاعر:
“دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے “

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.