کوئٹہ: بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا الائنس (بی ڈی ایم اے) کا اہم اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں تنظیم کی نئی کابینہ کا انتخاب عمل میں آیا، تنظیم کی رجسٹریشن، ممبرشپ میں وسعت، اور صوبے میں ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش مسائل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں مرتضیٰ زہری کو متفقہ طور پر الائنس کا صدر، عصمت سمالانی جنرل سیکرٹری، عبد الوکیل نائب صدر جبکہ سکندر پرکانی سیکرٹری فائنانس منتخب ہوئے۔
اجلاس میں شریک اداروں میں کوئٹہ وائرل نیوز کے سمیع خان، بلوچستان میڈیا کے خیر محمد بلوچ، بلوچستان عوامی میڈیا کے نواز بلوچ، بلوچستان 24 کے مرتضیٰ زہری، بی این سی کے سکندر پرکانی، آگاہ بلوچستان کے عصمت سمالانی، بی این این کے عبد الوکیل اور کوئٹہ نیوز نیٹ ورک کے عبد الوحید عمرانی شامل تھے۔
اجلاس میں ڈی جی پی آر کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ:
> “ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر وہی روایتی اخبارات کروڑوں روپے کے فنڈز لے رہے ہیں جن کی آن لائن موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اصل رپورٹنگ اور عوامی ایشوز کو اجاگر کرنے والا اصل ڈیجیٹل میڈیا مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔”
شرکاء نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حکومتی سرگرمیوں کی سب سے زیادہ اور مؤثر کوریج وہی ادارے کر رہے ہیں جو بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا الائنس کا حصہ ہیں۔
اس کے باوجود حکومت کی جانب سے نظراندازی ناقابل قبول ہے۔
اجلاس میں عندیہ دیا گیا کہ اگر حکومت کا یہی رویہ برقرار رہا تو بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا الائنس اجتماعی طور پر سرکاری خبروں کی بائیکاٹ پر غور کر سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، اجلاس میں ان غیر صحافی افراد، سوشل میڈیا ٹک ٹاکرز اور بعض سرکاری ملازمین کے بیرون ملک “میڈیا نمائندے” کے طور پر سرکاری خرچے پر بھیجے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر ایک پر مزاح اور خوشگوار “چائے پارٹی” کا بھی اہتمام کیا گیا جہاں بلوچستان کے ڈیجیٹل میڈیا صحافیوں نے گرم چائے، مقامی بسکٹ اور سادہ مگر پرخلوص ماحول میں صحافتی مستقبل پر خوشگوار گپ شپ کی۔