چاغی کی سیاست میں ہلچل

سیاسی لوگ کہہ رہے کہ چاغی ون ٹو ہوجائیگا مگر ابھی تک عام عوام اسی شش و پنج میں ہیںکہ یہ کیسے ہوگا

0

 

تحریر فاروق سیاہ پاد رند

ضلع چاغی کو تقسیم  کر نے کی باتیں اس وقت سیاسی لوگوں کے محفلوں میں زیر بحث ہے۔

 

اس بات کا اعلان ایک سیاسی رہنما نے تو کردیا لیکن ابھی تک واضح نہیں کہ یہ کیسے ہوگا

 

اس حوالے سے باب پارٹی کے ورکرز کنونشن میں سابق صوبائی وزیر میر عبد الکریم نوشیروانی نے اپنے ورکروں کو خوشخبری سنائی

 

   ضلع چاغی بہت جلد ون ٹو ہوجائے گا۔ون ٹو سے ضلع کے بیشتر مسائل آسانی کے ساتھ حل ہوجائیگے۔

 

 البتہ میر عبد الکریم نے یہ وضاحت نہیں کی ضلع کے کون کون سے علاقے ون اور ٹو میں شامل ہونگے ۔

 

اس حوالے سے ضلع کے متعدد سیاسی لوگوں سے بات سننے کو مل رہی ہیں کہ چاغی ون ٹو ہوجائیگا مگر ابھی تک عام عوام اسی شش و پنج میں ہیں۔

 

 کون کونسے علاقے ون ٹو کا حصہ بنے گا اسکا حتمی اعلان شاید وقت آنے پر واضح ہوجائے بعض سیاسی قوتیں ون ٹو سے خوش نظر آتی ہیں بعض سیاسی قوتیں نالاں بھی ہیں ۔

 

ضلع چاغی میں خان پینل کے رہنما اور بلوچستان عوامی پارٹی رخشان ڈویثرن کے آرگنائزر میر اعجاز خان سنجرانی جو سینٹ چیئر مین صادق سنجرانی کے چھوٹے بھائی ہیں ۔

 

 2018کے الیکشن کے دوران چاغی کی سیاست میں انٹری ماری اپنی سیاسی اثر اسوخ کو ضلع کے اندر منوانے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔

 

 اور بلوچستان عوامی پارٹی کی پلیٹ فارم سے نا صرف چاغی ضلع بلکہ نوشکی ،خاران ،واشک ، میں پارٹی ورکر کنونشن  کرکے ضلعی کابینہ تشکیل دے دیا ۔

 

 چاروں اضلاع میں اپنی پارٹی کا ڈھانچہ  کھڑا کر دیا۔

 

 اگر دیکھا جائے چاروں اضلاع میں اہم سیاسی نمائندے انکے پارٹی کو لیڈ کررہے ہیں ہر ایک کا اپنے ضلع کے اندرایک مضبوط سیاسی اثر و رسوخ پہلے سے موجود ہے۔

 

 نوشکی میں سابق ایم پی اے غلام دستگیر بادینی ،خاران میں سابق صوبائی وزیر میر عبد الکریم نوشیروانی ،واشک میں سابق صوبائی وزیر میر مجیب الرحمان محمد حسنی شامل ہیں۔

 

ضلع چاغی میں ابتک کی سیاست میں بابائے چاغی پینل کے سربراہ سابق صوبائی وزیر میر امان اللہ خان نوتیزئی ،

 

اور موجودہ عوامی نمائندہ و صوبائی وزیر میر محمد عارف محمد حسنی کا پینل الفتح پینل اپنی اتحادیوں اور اپنی سیاست کو برقرار رکھے   ہوئے ہیں ۔

 

گزشتہ ہفتے چاغی کے صدر مقام دالبندین میں بابائے چاغی پینل کی جانب سے عوامی مسائل کی نشاندی کیلئے ایک جلسہ منعقد ہوا ۔

 

جلسہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جلسہ کا چرچا سوشل میڈیا میں خوب زیر بحث رہا ۔

 

دالبندین شہر میں جتنے بھی بڑے جلسے ہوئے ہیں یہ ان سے کم نہیں تھا ۔

 

جلسہ میں سخی امان اللہ نوتیزئی ،سابق چیئر مین داود خان نوتیزئی ،بڑیچ پینل کے سربراہ حاجی عرض محمد بڑیچ نے خطاب کیا ۔

 

مقررین نے الفتح پینل اور خان پینل دونوں کے اوپر خوب سیاسی لفظوں کی گولہ باری کی۔

 

 دونوں حریف پینلز کے ورکروں اور نمائندوں نے سوشل میڈیا  پر مقررین کے سیاسی لفظوں کی گولہ باری کا جواب دینے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ۔

 

جلسہ میں مقررین نے اپنی سیاسی مخالفین کو 2018کے الیکشن میں عوام سے کیئے گئے وعدوں کو یاد دلایا۔

 

 اور انکی کمزوریوں کی نشاندہی کی ضلع کے سیاسی مبصرین نے بابائے چاغی پینل ،بڑیچ پینل اور انکے اتحادیوں کے اس مشترکہ جلسہ کو کامیاب قرار دیا ۔

 

میر اعجاز خان سنجرانی وقتا فوقتاً ضلع چاغی کا دورہ کرتے  رہتے  ہیں

 

اور علاقے کے لوگوں کے قبائلی اور عام لوگوں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,447

 اب تک یہ بات واضع نہیں کی ہے کہ آنے والے دور میں بابائے چاغی پینل ،اور الفتح پینل کے ساتھ وہ چاغی کی نشست پر مد مقابل ہوگا۔

 

 اس کی موجودہ سیاسی پروگرامز اور عوامی رابطہ مہم  سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دور میں  ایک طاقت ور پوزیشن کے ساتھ میدان میں مد مقابل ہونگے ۔

 

ضلع چاغی میں ان سیاسی پینلز کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے نام ہیں۔

 

چاغی کے سیاسی پینلز

 

 الفتح پینل کے سربراہ الحاج سردار فتح محمد محمد حسنی ،پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر الحاج سردار محمد عمر گورگیج ،

 

سابق صوبائی وزیر الحاج حاجی علی محمد نوتیزئی ،بی این پی کے مرکزی رہنما حاجی بابو محمد انور نوتیزئی کا ضلع کی سیاست اور جوڑ توڑ میں ہمیشہ ایک اہم کردار رہا ہے ۔

 

ضلع چاغی کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے آنے والا سینٹ الیکشن جو چند ماہ بعد ہونے والے ہیں اسکے بعد ضلع چاغی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوجائیگی

 

 اب تک زیادہ تر سیاسی لوگ سینٹ الیکشن کی انتظار میں ہیں اس بات کا بھی امکان ہے کہ ضلع چاغی کےبعض اہم سیاسی نام سینٹ الیکشن میں حصہ دار ہونگے۔

 

 اسکے بعد چاغی میں سیاسی سرگرمیاں زور پکڑنا شروع کریگا ۔

 

بعض سیاسی مبصرین کا دعوی ہے کہ چیئر مین سینٹ محمد صادق سنجرانی چیئر مین شپ کی  اختتام ہونے کے بعد چاغی کی سیاست میں اہم کردار ہوگا۔

 

 یہ اس وقت واضع ہوگا ،جب سینٹ الیکشن سے قبل چاغی ضلع ون، ٹو ، ون، ٹو ہونے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں ،اتحادیوں اور پینلز کے لیئے جوڑ توڑ اور سیاست کرنا آسان ہوگا۔

 

موجودہ ضلع کی سیاسی جدو جہد سے یہ نظر آتا ہے کہ بابائے چاغی پینل ،خان پینل ،اور الفتح پینل آنے والے دور میں یہ تینوں اپنی اپنی مضبوط امیدوار میدان میں اتار لینگے ۔

 

لیکن خان پینل چونکہ بی اے پی کی پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی جدو جہد کررہا ہے ضلع میں اپنے کو مضبوط بنانے کیلئے اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

کیو نکہ اس ضلع کے اندر 42قبائل آباد ہیں 42 قبائل کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور اپنے  آنے والا سیاست کیلئے ساتھ لیکر چلنے کیلئے رضا مند کرنا بہت ضروری ہے۔

 

کیو نکہ کسی بھی امیدوار کی ہار جیت میں ضلع چاغی کے 42 قبائل کاکردارہمیشہ اہم رہا ہے ۔

 

بابا ئے چاغی پینل ،اور الفتح پینل کا ووٹ بنک اور سیاسی قبائلی اثر اسوخ 2013سے عوام دیکھ رہی ہے کہ یہ دو پینل ضلع کے اندر سیاسی طور پر متحرک ہیں

 

 اور مد مقابل بھی ہے بی اے پی اور خان پینل کو دونوں قوتوں کو سامنے رکھ کر مد مقابل ہونا ہے ۔

 

موجودہ صوبائی وزیر میر محمد عارف محمد حسنی کے اتحادیوں کا دعوی ہے کہ ضلع کے اندر اربوں روپے کی ترقیاتی اور اجتماعی کام جاری ہے۔

 

 جب یہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائینگے عوام ضلع کے اندر تبدیلی محسوس کریگی۔

 

لیکن سوال یہ ہے بلڈنگ ،تعمیری رنگ و روغن ،سڑکوں کی مرمت سے عا م عوام مطمئن   ہونگے ۔ یہ ذرا مشکل لگ رہا ہے ۔

 

 اب گزشتہ  ہفتے سے ضلع چاغی کے مختلف محکموں کی خالی اسامیاں مشتہر ہوئی  ہیں۔

 

 اگر صوبائی وزیر میر محمد عارف حسنی نے اپنے جن اتحادیوں کو ٹھیکہ ،آبنوشی اسکیم و دیگر مراعات سے نوازاہے ۔

 

 

اگر ملازمت بھی انہی کی جولی میں ڈال دیا تو باقی اتحادیوں میں بھی دراڑ پڑ جائیگی ۔

 

سیاسی مبصرین کی رائے

 

 سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر میر محمد عارف محمد حسنی نے عام بے روزگار نوجوانوں کو بلا تفریق میرٹ کی بنیاد پر روزگار دیا ۔

 

اور وہ اتحادی جو ان دو سالوں میں انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے انکے بے روزگار نوجوانوں کو صاف اور شفاف طریقے سے خالی اسامیوں میں بھرتی کیا ۔

 

تو یہ ممکن ہے کہ اسکی کشتی میں سوار اتحادی اپنی سفر کو آخر تک جاری رکھ سکیں ورنہ بصورت دیگر اسے بہت سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا۔

 

 چونکہ اب دو سالوں کے بعد اسے اس بات کا بھی یقین ہوگیا ہوگا کہ ایک تگڑا اپوزیشن اس ضلع کے اندر موجود ہے اور سڑکوں پر آنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.