پرائیویٹ تعلیمی ادارے سرکاری احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہیں ،وزیر تعلیم 

0

کوئٹہ :ویب ڈیسک 

صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ تعلیم کی بہتری کیلئے کالجز کی سطح پر بی ایس پروگرام ایک موثر پروگرام ہے جس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے نقل کی روک تھام اور اساتذہ کی غیر حاضری پر کوئی رعایت نہیں کرینگے ۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے لیکن ذاتی مفادات کیلئے اگر پرائیویٹ ادارے ہم سے اختلافات کریں تو اس کی اجازت نہیں دینگے آنیوالے امتحانات میں جماعت ہشتم کے بورڈ امتحان لازمی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ کالجز کی سطح پر بی ایس کا چار سالہ پروگرام شروع کیا ہے جس سے 8سمسٹر ہونگے انہوں نے کہاکہ دنیا میں تعلیم کے حوالے سے جن قوموں نے ترقی کی ہے۔

انہوں نے بی ایس پروگرام اپنایا ہے اس لئے موجودہ صوبائی حکومت نے بڑی سوچ اور سمجھ کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہم بلوچستان میں امتحان کی بہتری کیلئے بی ایس کا پروگرام شروع کرینگے ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,727

یہ تاثر غلط ہے کہ بی ایس کے داخلے اور سمسٹر میں دوگناہ فیس وصول کیا جارہا ہے بلکہ یونیورسٹی سے بہت یعنی داخلے کی فیس4ہزار اور فی سمسٹر کی2800مقرر کیا ہے جو موجودہ تعلیم کے وقت میں نہ ہونے کے برابر ہے

انہوں نے کہاکہ تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے بی ایس پروگرام میں تمام ڈگری کالجز کو شامل جبکہ انٹرکالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دینگے گرلز کالجز میں تعلیم دینے کیلئے فی میل ٹیچرز کے حوالے سے کچھ مشکلات ہے لیکن صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں فنڈز مختص کرکے تمام اضلاع میں اساتذہ کیلئے ہاسٹل اور ان کی سہولیات کیلئے اقداما ت کرینگے ۔

انہوں نے کہاکہ ٹیچرز کی غیر حاضری اور نقل کی روک تھام کیلئے تمام تر اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں تمام اضلاع کی ڈی سی اوز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ہر وقت ماتحت سکولوں کا دورہ کرکے غیر حاضر اساتذہ کو معطل اور نقل کی روک تھام کیلئے طلباء کے ساتھ ٹیچر کیخلاف بھی کارروائی کی جائے ۔

صوبائی حکومت نے طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے میرٹ پر آنیوالے طلباء کو نقد انعام کے ساتھ لیپ ٹاپ کا سلسلہ بھی شروع کیا اور یہ سلسلہ اساتذہ تک بھی پہنچائینگے جس مضمون میں طلباء نے اچھے نمبر لیے اس ٹیچر کو نقد انعام دینگے جبکہ کسی مضمون میں کم نمبر لیے ان ٹیچر کیخلاف کارروائی کرینگے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی نیت صاف ہے وہ تعلیم کی بہتری چاہتے ہیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے سرکاری احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہیں کیونکہ ہم کوئی ایسی چیز اس پر مسلط نہیں کرینگے جس سے تعلیم متاثر ہو بلکہ ہم تعلیم کی بہتری کیلئے کوشاں ہے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.