پر امن بلوچستان کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،وزیر اطلاعات ظہور بلیدی

[one_fourth]

کوئٹہ۔07نومبر(اے پی پی) تعلیم کے بغیر ترقی و خوشحالی ناگریز ہے،گڈگورننس ملک و قوم کی فلاح کے لئے انتہائی اہم ہے ،

بلوچستان میں تعلیم کی بہتری کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں اور صوبے میں یکساں نظام تعلیم کے لئے عملی طور پر اقدمات کی ہدایت کردی ہے

صوبائی وزیر اطلاعات و ہائیر ایجوکیشن کایونائیٹڈ نیشن ڈولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی)
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی ( پلڈاٹ) کے زیر اہتمام
جمہوری ،پرامن طرز حکومت اور پائیدار ترقی کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چائینہ پاکستان اکنامک کاریڈور کی وجہ سے بلوچستان میں کوالٹی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے

بلوچستان کے ہزاروں دیہاتوں میں بنیادی تعلیم
کے لئے اسکول ہی موجود نہیں
اور ان اسکولوں کی تعمیر پر 60بلین روپے درکار ہیں

اس ضمن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں یکساں نظام تعلیم کیلئے اقدمات اٹھائے جارہے ہیں

اور بلوچستان کے تعلیمی نصاب میں انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے مضامین شامل کرنے چاہئیں،

ہمیں نصاب کو ریویو کرنا ہوگا اور اس حوالے سے عوام میں آگاہی مہم شروع کرنا ہوگا

اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا کہ
ملک کو ڈکٹیٹر شپ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے

جب کی تلافی ہماری آنے والی نسلیں کر ینگی،بلوچستان میں نوجوانوں کا حکومت بنانے میں اہم کردا ر ہے اور اس سلسلے میں انکو سیاست میں حصہ لینا چاہئے

انہوں نے کہا کہ پر امن بلوچستان کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ،بلوچستان کا واحد حل جمہوریت ہے صوبے میں نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے،

اس وقت ملک بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے جس کو صرف اور صرف وزیر اعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں سے نکالا جا سکتا ہے۔

صوبے میں تعلیم ،ترقی و خوشحالی کے لئے سازگازماحول کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات امریکی طرز پر براہ راست ہونے چاہئے

جس سے ناصرف ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام بغیر پیسہ خرچ کئے سینیٹ تک پہنچ سکے گا۔

اس موقع پر نوجوانوں نے کہا کہ حکومت کوالٹی و ٹیکنیکل ایجوکیشن کی فراہمی میں بلوچستان کی مالی معاونت کرے اور صوبے میں میڈیکل اور زرعی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لائے تاکہ تعلیمی میدان میں دیگر صوبوں کامقابلہ کیا جاسکے۔

سیمینار میں رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ،نصراللہ زیرے،ملک سکندر ایڈوکیٹ،محمد نوازبلوچ،منظور حسین بلوچ،خیرجان بلوچ اور نیشنل پارٹی کے رہنما جان محمد بلیدی اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات بھی شریک تھے۔

[/one_fourth]

اپنا تبصرہ بھیجیں