افغانستان میں بڑھتی ہوئی پوست کی پیداوار بڑا نقصان پاکستان کو

0

 

مانیٹرنگ ڈیسک
ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک نے سالانہ پریس بریفنگ میں کہاہے
منشیات کی رسد روکنے کی مد میں اے این ایف نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاونین کی مدد سے ملک سے پوست کی پیداوار کو نہ ہونے کے برابر کم کردیا گیا ہے۔
نتیجتاً، UNODC کے معیار کے مطابق پاکستان سال 2001 سے پوست کی پیداوار سے پاک ملک کی حیثیت حاصل کر چکاہے۔

افغانستان میں بڑھتی ہوئی پوست کی پیداوار سے کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو ہے ۔

UNODC کی سروے رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق، افغانستان میں اس سال 6400 میٹرک ٹن افیون کاشت کی گئی ہے ،جس سے 300 میٹرک ٹن ہیروئن اور 3400 میٹرک ٹن خام افیون بنائی جا سکتی ہے۔
اے این ایف تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل کو منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

تعلیمی اداروں کو منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اب تک 137 مقدمات درج کر کے 163 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 2518 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی۔

خواتین و حضرات! اے این ایف اس وقت منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے تین مراکز کراچی ، اسلام آباد اور سکھر میں چلا رہی ہے،

سکھر علاج و بحالی مرکز سال 2018 میں قائم کیا گیا۔ منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے کراچی مرکز کو50 بستروں پر مشتمل خواتین اور بچوں کی بحالی وارڈ کے اضافے کے ساتھ مجموعی طور پر 105 بستروں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

منشیات کے عادی افراد کے اسلام آباد بحالی مرکز کو مزید وسیع و بہتر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرز کے مزید4 بحالی مراکز کوئٹہ، لاہور ،حیدر آباد اور پشاور میں مستقبل قریب میں قائم کئے جائیں گے۔

اے این ایف نے ان علاج و بحالی مراکز میں تاحال 17,486 منشیات کے عادی افراد کو مفت علاج و بحالی کی سہولت فراہم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

سال 2018 کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کے کل 1184 مقدمات درج کر کے 1376 عناصر کو گرفتار کیا گیا جبکہ 100.26میٹرک ٹن منشیات اور ممنوعہ کیمیائی مواد برآمد کیا گیاجس کی مالیت 1195.72 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پردوسرے ممالک کے انسداد منشیات اداروں کو اے این ایف کی جانب سے مہیّا کی گئی معلومات پر مبنی 31 کاروائیاں عمل میں لائی گئیں

جس کے نتیجے میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 78عناصر کو گرفتار کیا گیا اور 15.494میٹرک ٹن منشیات قبضے میں لی گئیں۔منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 18تنظیموں کا نیٹ ورک توڑا گیاجس میں 5 بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

اے این ایف گرفتار شدہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی شرح 95 فیصد کی حوصلہ افزا سطح پر رہی جبکہ منشیات کی اسمگلنگ سے بنائے گئے 43.199 ملین روپے مالیت کے اثاثہ جات بھی منجمد کئے گئے ۔

2018 ؁ء میں اے این ایف نے ملک بھر میں منشیات نذرآتش کی جانے والی الگ الگ تقاریب کے دوران مجموعی طور پرایک بلین امریکی ڈالر مالیت کی کل 244.837ٹن منشیات نذر آتش کیں۔

نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان انتہائی قابلِ تشویش امر ہے۔

اے این ایف عوام الناس کو منشیات کے نقصانات سے آگاہی فراہم کرنے اور عوام کو منشیات کے خلاف جاری جنگ میں ساتھ لے کر چلنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

معاشرے کے تمام معزز اراکین کو منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں اے این ایف نے سال 2018کے دوران اے این ایف نے ملک بھر میں 400 مختلف قسم کی آگاہی سرگرمیوں کے اقدامات کئے گئے۔

عمل میں لائی گئی آگاہی سرگرمیوں میں سیمینار، لیکچر، آگاہی ورکشاپس، کھیلوں کی سرگرمیاں، انسدادِ منشیات کی آرٹ، پینٹنگ و تحریرِ مضامین کے مقابلے، ثقافتی میلے، سٹیج ڈرامے،پوسٹر بنانے کے مقابلے، فری میڈیکل کیمپ، آگاہی واکس، منشیات سے آگاہی کے پیغام والے بینرز (بشمول یوٹیلیٹی بلز و سفری ٹکٹیں) ، عوامی حلقوں میںآگاہی مواد کی تقسیم اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ، میڈیا ٹاکس اور سوشل کے ذریعے آگاہی شامل ہے۔

اے این ایف مناسب طریقہ کار کے تحت اپنی موجودہ افرادی قوت کو 3148 سے 10000 تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گوادر میں ایک باقاعدہ ریجنل ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اے این ایف کے 7نئے تھانے بنائے جا رہے ہیں۔ موجودہ قانون میں بہتری کی سفارشات وفاقی کابینہ میں زیرِ غور ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور معاونین کی مدد سے اے این ایف کے لئے جدید آلات کا حصول عمل میں لایا جا رہا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.