بلوچستان میں 14ہزار 250پرائمری اسکولوں میں سے 1623اسکول غیر فعال،محکمہ تعلیم کاانکشاف

0

ویب ڈیسک

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہا ہے کہ حکومت شعبہ تعلیم کی بہتری اور اسکولوں میں بہتر اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لئے کثیر فنڈز فراہم کررہی ہے، تعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اساتذہ کی غیرحاضری کو برداشت کیا جائے گا،محکمہ تعلیم غیر فعال اسکولوں کی فعالی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے اور اساتذہ اور بچوں کی حاضری کی مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنایا جائے

محکمہ تعلیم کے امور کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کااظہار خیال

صوبائی وزیر پرائمری تعلیم محمد خان لہڑی صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن میر ظہور احمد بلیدی ، محکمہ تعلیم کے حکام اور پرائمری تعلیم میں صوبائی حکومت کی پارٹنریونیسف کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے

سیکریٹری پرائمری تعلیم محمد طیب لہڑی کی جانب سے محکمانہ امور، ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جی آئی ایس پروفائل اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 14250 ہے جن میں سے مختلف وجوہات کی بناء پر لڑکے اور لڑکیوں کے 1623اسکول غیر فعال ہیں

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,770

انہو ں نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف موثر کاروائی کی جارہی ہے اور اب تک 16اساتذہ کو ان کی ملازمتوں سے برخواست کردیا گیا جبکہ غیر حاضری کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی بھی کی جارہی ہے

سیکرٹری پرائمری تعلیم کے مطابق بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں جی آئی ایس پروفائل کے ذریعہ اسکول جانے والے ہر بچے کا ڈیٹا موجود ہے اور آر ٹی ایس ایم کے ذریعہ بچوں اور اساتذہ کی حاضری کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور چیف منسٹر انیشیٹیو پروگرام کے تحت اسکولوں میں غیردستیاب سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کسی بھی نئے اسکول کے قیام کے لئے محکمہ تعلیم کی منظوری لازم ہوگی اور اسکولوں کی تعمیر کے لئے ماہر تعمیرات کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ تمام اسکولوں کو یکساں ڈیزائن کے مطابق تعمیر کرکے وہاں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جاسکیں،

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ غیر فعال اسکولوں کی بندش کی وجوہات کا جائزہ لے کر انہیں فوری طور پر دور کیا جائے اور جو اسکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں کابینہ کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق بھرتی کا عمل فوری طور پر شروع کرکے وہاں اساتذہ تعینات کئے جائیں،

وزیراعلیٰ نے ہر ضلع میں کم از کم ایک ماڈل ہائی اسکول کے قیام اور اس میں ہاسٹل اور آئی ٹی لیب کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ ہمارے نئی نسل کے معمار ہیں لہٰذا ان کی قابلیت میں اضافہ کے لئے ٹیچر ٹریننگ پروگرام پر خصوصی توجہ دی جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.