بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے، صنفی امتیاز کے خاتمے کیلئے قانون سازی کررہے ہیں ،جام کمال

ویب ڈیسک

ہمیں عملی زندگی میں سماجی مجبوریوں کو رکاو ٹ نہیں بننے دینا ہے اگرہم کسی ایک شخص کی زندگی بھی بدل دیں تو یہ بہت بڑا کام ہوگا، جو تربیت ماں باپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔ بچوں کی اعتماد سازی، رہنمائی اور تربیت کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر عائد ہوتی ہے اور ایک پڑھی لکھی ماں اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے

ہماری خواتین سیاسی سماجی اور معاشی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھروپور اظہار کرتے ہوئے بہترین کردار ادا کررہی ہیں، بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ان کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے،

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کاعالمی یوم خواتین کی مناسبت سے محکمہ وویمن ڈویلپمنٹ کے زیراہتمام اقوام متحد ہ کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

پارلیمانی سیکریٹری برائے وویمن ڈویلپمنٹ محترمہ ماہ جبین بلوچ، سیکریٹری وویمن ڈویلپمنٹ ساحرہ عطا او ردیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ صوبے کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں سیمینار میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں بھی خواتین کا بہت بڑا کردار رہا ہے،جنہوں نے غزوات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انہوں نے حضرت خدیجہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف کاروبار میں عملی حصہ لیتی تھیں بلکہ حضور ﷺ کو بھی مشاورت اور معاونت فراہم کرتی تھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی بہت اہم ہے جو دین اسلام کی ایک وراثت ہے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اپنی اس وراثت کو محدود کیا جبکہ مغرب نے ہماری اس وراثت کو اپناتے ہوئے ترقی کی، انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف سے معاشرے بنتے ہیں اور قانون سازی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب لوگ اس کو اپنی سماجی زندگی کا حصہ بناتے ہیں،

وزیرعلیٰ نے کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کی شرح خواندگی کا تناسب کم ہے، اگر صرف نام لکھنے اورپڑھنے کو خواندگی کا معیار بنایا جاتا ہے تو وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم کی ترقی، اور شرح خواندگی میں اضافہ کو اولین اہمیت دیتی ہے، خاص طور سے بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہمارا اہم فریضہ اور مقصد ہے،

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین معاشی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، بلوچستان کی خواتین کشیدہ کاری اور گھریلو صنعتوں کام کرتے ہوئے اپنے خاندانوں کی کفالت کررہی ہیں، انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خاتمے، انہیں کام کرنے کے مناسب ماحول کی فراہمی اور ان کے صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے ضروری قانون سازی کی جارہی ہے

صوبائی حکومت نے خواتین کو یکساں حقوق دینے کی جامع منصوبہ بندی کی ہے، وراثت کے قانون کے تحت خواتین کو ان کے حصے کی منتقلی کے تحفظ کا قانون بھی تیار کیا گیاہے جبکہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے قواعد وضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے دو خواتین کو رکن پبلک سروس کمیشن مقرر کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ ملازمتوں میں خواتین کے مختص کوٹہ پر عملدرآمد اور ان کے لئے کام کرنے کے بہتر اور محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بناکر ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا، تقریب سے سیکریٹری وویمن ڈویلپمنٹ ساحرہ عطا نے بھی خطاب کیا ، بعدازاں وزیراعلیٰ نے ضلعی سطح پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی حامل خواتین میں شیلڈ تقسیم کیں۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں