سوال یہ ہے پیسہ کہاں سے آیا

0

ویب ڈیسک

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران یمارکس دیئے ہیںکہ عدالت کے پاس سوال یہ ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور پاناما کیس میں بھی یہی سوال تھا کہ پیسہ کہاں سے آیا۔

دیکھ رہے ہیں جو دستاویزات ریکارڈ پرہیں اس سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

کو چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے اپنے دلائل میں کہا کہ کاغذات نامزدگی میں مجموعی زرعی آمدن کے بارے میں مختلف موقف اپنایا گیا۔

تحریری جواب میں موقف اپنایا گیا کہ لیززمین پرٹیکس نہیں ہوتا، دوسرا موقف اپنایا گیا کہ کاغذات نامزدگی میں لیز زمین کا کالم نہیں تھا۔ حنیف عباسی کے وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پنجاب زرعی ٹیکس اتھارٹی نے کم ٹیکس دینے پرکوئی ایکشن لیا؟

جس پر حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ لیززمین سے متعلق جودستاویزات پیش ہوئیں وہ جعلی ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ لیز زمین کی ادائیگیاں مالکان کو کیں، کبھی کہتے ہیں کہ لیز زمین کی ادائیگیاں مالکان کے بڑوں کو کیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لیز زمین کے حوالے سے بہت سے معاہدے ہوئے، ہوسکتاہے کہ توجہ نہ رکھی گئی ہوکہ کاغذات نامزدگی پرمسئلہ ہوسکتا ہے جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے لیززمین کی ادائیگیوں کو چیلنج نہیں کیا، اگر لیز زمین کی ادائیگیوں کو چیلنج کرتے توکوئی بات بنتی تھی۔

کروڑوں روپے کس مد میں ادا کیے گئے؟ وجہ بتائیں کہ یہ کروڑوں کی رقم لیززمین کے لیے ادا نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جہانگیر ترین نے لیز زمین کی ادائیگیاں بذریعہ چیک کیں، کسی مالک نے بھی لیززمین کی ادائیگی پر اعتراض نہیں کیا۔

حنیف عباسی کے وکیل نے موقف اپنایا کہہ لیززمین آمدن پر ایک پیسہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیاگیا، اس پر جسٹس عمر عطا نے استفسار کیا کہ کیا ہم ٹیکس اتھارٹی کے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں؟

عاضد نفیس نے کہا کہ ٹیکس معاملات پرعدالت پر کوئی دبا نہیں، عدالت نے ٹیکس گوشواروں اور دستاویزات میں تضاد کو دیکھنا ہے، لیز زمین کی انٹری محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ لیززمین کی انٹری محکمہ مال میں کرانا مالکان کا کام تھا، اس پر حنیف عباسی نے موقف اپنایا کہ جہانگیرترین اتنی بڑی رقم دے رہے تھے تو محکمہ مال میں انٹری بھی کرا لیتے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,727

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ دیکھ رہے ہیں جو دستاویزات ریکارڈ پرہیں اس سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق جہانگیر ترین ٹرسٹ کے تاحیات بینیفیشری ہیں، جہانگیر ترین کی اہلیہ بھی ٹرسٹ کی تاحیات بینیفشری ہیں،

جہانگیرترین کے بچے بھی ٹرسٹ کے بینیفشری ہیں، جہانگیرترین کے انتقال کے بعد ان کے بچے بینیفشری ہوں گے، جہانگیرترین کو ٹرسٹ کی رقم اپنے سمیت کسی کودینے کا اختیار بھی ہے، ٹرسٹ کے ذریعے سرمایہ کاری بھی کی جا سکتی ہے۔

عاضد نفیس کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ بڑا جامع ٹرسٹ بنایا گیا ہے، دیکھنا ہے کہ ٹرسٹ کے تحت کوئی اور پراپرٹی حاصل کی گئی ہے؟ کیا جہانگیر ترین کو وہ ٹرسٹ یاجائیدادکاغذات نامزدگی میں ظاہرکرناچاہیے تھی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کا سیٹلر جائیداد کا مالک نہیں ہوسکتا، وہ کالم دکھا دیں جہاں جہانگیرترین نے ٹرسٹ سیٹلر ہونا یا ٹرسٹ کوظاہرکرنا تھا، ٹرسٹ کے تحت خریدی گئی جائیداد ٹرسٹ کی ہوگی جہانگیرترین کی نہیں۔

حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے دونوں صورتوں میں گورنر کی نیت کو دیکھنا ہوتی ہے، پراپرٹی کی ملکیت چھپانے کے لیے ٹرسٹ بنایاگیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانونی سوال یہ ہے کیا جہانگیرترین کو کاغذات نامزدگی میں ٹرسٹ کو دکھانا تھایا نہیں، اب ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق جہانگیرترین تاحیات بینیفشری ہیں۔

حنیف عباسی کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ٹرسٹ کے کاغذات بھی جہانگیرترین نے دیئے ہیں، ٹرسٹ کو ساری رقم جہانگیر ترین نے دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرسٹ جہانگیر ترین کااثاثہ نہیں ہے، کاغذات نامزدگی میں جہانگیرترین نے اپنے اثاثے بتانے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاناما کیس میں ایشو کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ پاناما کیس میں سوال منی ٹریل کا تھا، پاناما کیس میں قابل وصول تنخواہ ظاہرنہ کرنے پر نااہلی ہوئی اس پر جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی معمولی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پرائیوسی کے نقطہ پرعدالت کو دلائل نہیں دیے گئے، آف شور کمپنی بنانے کا مقصد پرائیوسی بھی ہے، آف شور کمپنی کا مقصد ٹیکس کی ادائیگی سے بچنا ہے، یہ بتائیں کہ آف شور کمپنی کیوں بنائی جاتی ہے۔

حنیف عباسی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عدالت یہ دیکھے جو حربے جہانگیرترین نے استعمال کیے کیا وہ ایماندارشخص استعمال کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرسٹ کے کام کرنے کے اپنے قوائد و ضوابط ہیں، ٹرسٹ کو ختم کرنے کے لیے عدالت جانا پڑتا ہے، ایسا قانون دکھادیں جس کے تحت ٹرسٹ کی جائیداد جہانگیرترین کی ملکیت ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نہیں کہا کہ یہ درخواستیں پاناما کا کاونٹر بلاسٹ ہیں، ٹرسٹ کی وضاحت جہانگیرترین کے وکیل نے بھی کرنی ہے، عدالت کے پاس سوال یہ ہے کہ پیساکہاں سے آیا، پاناما کیس میں بھی یہی سوال تھا کہ پیسا کہاں سے آیا، ہم قانون کو بائی پاس نہیں کرسکتے، دیکھنایہ ہے کہ ٹرسٹ کی پراپرٹی کس کی ہوگی، ہم قانون سے ہٹ کر کیسے کسی معاملے کو دیکھ سکتے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.