بابری مسجد کا کیس کا فیصلہ آگیا ۔۔۔۔۔؟

مانیٹرنگ ڈیسک

انیس سو بیانوے   میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے بابری مسجد کی زمین کا فیصلہ سنادیاگیا

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنےکا حکم دیدیا

  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا بینچ میں ایک مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے،

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر  رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں،

چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ   مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے، سنی وقف بورڈ کو 5 ایکڑ متبادل زمین دی جائے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع 2 اعشاریہ 77 ایکٹر زمین مرکزی حکومت کے حوالے کرتے ہوئے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے فیصلے پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

ریونیو ریکارڈ کے مطابق زمین سرکاری تھی جب کہ بابری مسجد کی شہادت قانون کی خلاف ورزی ہے

بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی

عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں