مریخ وادیوں اور گھاٹیوں کا تجزیہ(ice caps)نیچر جیو سائنس نے

مریخ ایک خشک سیارہ ہے جس کے قطب شمالی اور قطب جنوبی پر برفانی ٹوپیاں (ice caps) موجود ہیں۔ البتہ مریخی سطح کے خدوخال کا جائزہ لینے کے بعد ماہرینِ کی بڑی تعداد اس پر متفق ہے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان 24 ویب ڈیسک

مریخ ایک خشک سیارہ ہے جس کے قطب شمالی اور قطب جنوبی پر برفانی ٹوپیاں (ice caps) موجود ہیں۔ البتہ مریخی سطح کے خدوخال کا جائزہ لینے کے بعد ماہرینِ کی بڑی تعداد اس پر متفق ہے کہ ماضی بعید میں، یعنی آج سے کروڑوں اربوں سال پہلے، اس سیارے کا ماحول مناسب حد تک گرم تھا جہاں سمندر اور دریا تھے، اور وہاں بھی بارشیں ہوا کرتی تھی۔ یہ مفروضہ ’’گرم اور نم قدیم مریخ‘‘ کہلاتا ہے جسے بڑی حد تک درست تسلیم کیا جاتا ہے۔

لیکن وینکوور، کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے سائنسدانوں نے ایک تازہ تجزیئے کے بعد کہا ہے کہ ماضی بعید میں مریخ پر پانی ضرور تھا لیکن وہ مائع حالت میں نہیں بلکہ منجمد برف کی شکل میں تھا۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر جیوسائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے مریخی وادیوں اور گھاٹیوں کا تجزیہ کرنے کےلیے کچھ نئی تکنیکیں وضع کرکے استعمال کیں۔

بعد ازاں جب ان کا موازنہ کینیڈا کے انتہائی شمال میں، قطب شمالی کے بالکل قریب واقع برف پوش جزیروں (کینیڈین آرکٹک آرکیپیلاگو) میں برف کے نیچے بہنے والی آبی گزرگاہوں کی ساخت سے کیا گیا تو ان دونوں میں حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ مماثلت دکھائی دی۔

اسی مماثلت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ماضی بعید میں مریخ کی سطح پر سمندر اور دریا نہیں تھے بلکہ جگہ جگہ برفانی تودے پھیلے ہوئے تھے جن کی تہوں کے نیچے انتہائی ٹھنڈا پانی بہہ رہا تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: