محکمہ کھیل بلوچستان: فٹسال ٹورنامنٹ میں سہولیات غائب، تصاویر موجود

 کوئٹہ(سپورٹس رپورٹر)بلوچستان جیسے پسماندہ مگر باصلاحیت نوجوانوں سے بھرپور صوبے میں جب کھلاڑی فٹ سال اور کرکٹ جیسے سرکاری ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے ہیں تو ان کی امید ہوتی ہے کہ کم از کم بنیادی سہولیات، نیو جرسی،سپورٹس شوز، اور ڈیلی الاؤنس انہیں میسر آئیں گی۔

مگر بدقسمتی سے حالیہ محکمہ کھیل کے زیرِ اہتمام فٹ سال ٹورنامنٹ نے ان تمام دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا۔کروڑوں روپے کے فنڈز مختص ہونے کے باوجود کھلاڑی پرانے، پھٹے ہوئے شوز اور جرسیوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔

نہ کوئی ڈیلی الاؤنس، نہ اسپورٹس کٹ، اور نہ ہی وہ عزت و سہولت جو ایک سرکاری ایونٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑی کا حق ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کھلاڑیوں اپنے پرانے جرسی اور شوز میں ہی کھیلنا ہے، تو پھر یہ بھاری فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟

کھلاڑی حکومتی ٹورنامنٹس میں اس لیے حصہ لیتے ہیں کہ انہیں مالی مدد، اسپورٹس سامان اور آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔

مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ کھلاڑی پس منظر میں دھکیل دیے گئے ہیں اور محکمہ کھیل بلوچستان کے افسران بڑے بڑے بینرز، پوسٹرز اور تصویری نمائش میں مصروف نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 9,034

افتتاحی تقاریب، فوٹو سیشنز اور تشہیر تو عروج پر ہے، مگر میدان میں پسینہ بہانے والا کھلاڑی بنیادی سہولیات سے محروم ہے،یہ کیسا نظام ہے جہاں فنڈز کی بندر بانٹ تو نظر آتی ہے مگر اس کا فائدہ کھیل یا کھلاڑی کو نہیں پہنچتا؟

کیا محکمہ کھیل کا کام صرف ایونٹ کا نام لگانا اور تصاویر بنوانا رہ گیا ہے؟

اگر نیو جرسی اور شوز جیسی بنیادی چیزیں فراہم نہیں کی جا سکتیں تو ایسے ٹورنامنٹس محض دکھاوا ہیں، کھیل و
کھلاڑیوں کی ترقی نہیں۔

حکومتِ بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے سوال ہے کہ کروڑوں کے فنڈز کی شفاف تفصیلات کب سامنے آئیں گی؟

کھلاڑیوں کو ان کا جائز حق کب ملے گا؟ اور محکمہ کھیل کب تشہیر سے نکل کر حقیقی کھیل اور کھلاڑی پر توجہ دے گا؟

جب تک اس سوچ میں تبدیلی نہیں آتی، کوئٹہ کے باصلاحیت نوجوان اسی طرح کھیلوں کے سہولیات سے محروم رہیں گے، اور کروڑوں کے فنڈز فائلوں، بینرز اور تصویروں کی نذر ہوتے رہیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.