پی ایس ایل فور کا میلا سجنے میں صرف 2 دن باقی،کھلاڑی اور شائقین پرجوش

0

رپورٹ۔ مہک شاہد

انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہے، پھر سے میدان سجنے والے ہیں، چوکے چھکے لگنے والے ہیں، چوکوں چھکوں کے ساتھ ساتھ وکٹیں بھی اڑیں گی۔

پی ایس ایل فور شروع ہونے میں صرف 2 دن باقی رہ گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ایک بار پھر پاکستان سپر لیگ کی میزبانی کے لیے تیار ہے جہاں جمعرات سے پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کا پہلا میچ کھیلا جائے گا۔

پاکستان سپر لیگ ایڈیشن فور کا پہلا میچ 14 فروری کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے درمیان کھیلا جائیگا، میچ سے پہلے رنگا رنگ افتتاحی تقریب ہوگی۔

ٹوٹل پندرہ میچز دبئی میں کھیلے جائیں گے، جبکہ آٹھ میچز شارجہ میں اور چار میچز ابو ظہبی میں کھیلے جائیں گے۔ اس بار آٹھ میچز پاکستان میں رکھے گئے ہیں۔

پی ایس ایل فور کا میلا پاکستان میں 7 مارچ سے لاہور اور کراچی کے شہروں میں سجے گا اور فائنل 17 مارچ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔

لاہور اور کراچی کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے شائقین کرکٹرز کی خواہش ہے کہ ان کے شہر میں بھی میچز منعقد ہونے چاہیے، تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم کو اپنے شہر میں کھیلتا ہوا دیکھیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش یہی ہے کہ اگلے سال سے پی ایس ایل کے سارے میچز پاکستان میں ہوں اور ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی پی ایس ایل کے میچز منعقد کیے جائیں

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

پی ایس ایل کے ٹیموں کی دبئی میں آمد سے رونقیں پھر سے لوٹ آئی ہیں۔ دبئی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ہر طرف پی ایس ایل کے چرچے جاری ہے۔

ہر طرف شائقین اپنی پسندیدہ ٹیم کو سپورٹ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سال کھیلنے والی چھ ٹیموں میں سے کون سی ٹیم پی ایس ایل فور کا ٹائٹل اپنے نام کرتی ہے۔

اگر پی سی ایل کے سیزنز کی بات کی جائے تو دو بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنے نام کیا ہے جبکہ ایک بار پشاور زلمی نے ٹائٹل اپنے نام کیا ۔

بدقسمتی سے دو بار فائنل میں جانے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے ٹائٹل اپنے نام نہیں کیا ۔

سرفراز احمد کی قیادت میں کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے تینوں ایڈیشن میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اس بار بھی کوئٹہ کے شائقین کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے بہت سی امیدیں ہیں کہ وہ ٹائٹل اپنے نام کریگی

اس کے علاوہ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے سپورٹرز بھی اپنی اپنی ٹیموں کو بڑھ چل کر سپورٹ کر رہے ہیں اور اپنی خواہش ظاہر کر رہے ہیں کہ اس بار ان کی ٹیم ہی پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کریگی۔ یاد رہے پچھلے تینوں ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی جبکہ کراچی کنگز کی کارکردگی تیسرے ایڈیشن میں قدرے بہتر تھی۔

اس کے علاوہ دوسری بار کھیلنے والی ملتان سلطان کی ٹیم کے لئے پہلا سال اچھا نہیں رہا، شعیب ملک کی کپتانی میں ملتان سلطان کی ٹیم پہلے ایڈیشن میں پلے آف تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی۔

اب آنے والا وقت بتائے گا کہ اس بار کون سی ٹیم ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.