تحریر: مرتضیٰ زیب زہری
دنیا میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے جسے ‘شڈن فروڈا’ (Schadenfreude) کہتے ہیں جس کا مطلب ہے "دوسروں کی بربادی سے خوش ہونا”
اگر ہم گزشتہ چار دہائیوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے ساتھ بالکل یہی کیا۔ جسے دنیا ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ سمجھتی رہی وہ دراصل ایک کھربوں ڈالرز کی ایسی صنعت تھی جس کا ایندھن افغان عوام کا خون اور جس کا منافع امریکی دفاعی کمپنیوں کی تجوریاں تھیں۔
ماضی کا وہ افغانستان جو آج ایک خواب لگتا ہے
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ہمیشہ سے ہی ایک پسماندہ اور جنگ زدہ ملک تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
1960 اور 1970 کی دہائی میں افغانستان کے حالات بالکل مختلف تھے۔
اس دور میں افغانستان کی کرنسی (افغانی) مستحکم تھی اور افراط زر کی شرح 3 فیصد سے بھی کم تھی۔
کابل کو ‘وسطی ایشیا کا پیرس’ کہا جاتا تھا جہاں یورپی انجینئرز اور سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔
کابل یونیورسٹی میں 7000 سے زائد طلبہ زیر تعلیم تھے جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی جو جدید لباس پہنتی تھیں اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرم تھیں۔
اس وقت کے بادشاہ ظاہر شاہ نے کمال ہوشیاری سے امریکہ اور سوویت یونین دونوں سے ترقیاتی فنڈز حاصل کیے۔
روس نے پل اور سڑکیں بنائیں تو امریکہ نے ہیلمند کے علاقے میں ڈیم اور آبپاشی کے منصوبے مکمل کیے۔
امریکہ کا مسئلہ کبھی بھی افغان عوام کی فلاح و بہبود نہیں تھا بلکہ اس کا اصل ہدف خطے میں سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا تھا۔
جب افغانستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور اس کا جھکاؤ روس کی طرف بڑھ رہا تھا تو واشنگٹن میں بے چینی پیدا ہوئی۔
اس کا حل امریکہ نے ‘پروکسی وار’ کی صورت میں نکالا۔
سی آئی اے نے ‘آپریشن سائیکلون’ کے تحت اربوں ڈالرز پاکستان کے ذریعے افغانستان بھیجے تاکہ وہاں کی حکومت کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
یہاں سے افغانستان کے سماجی ڈھانچے میں مذہبی انتہا پسندی کا زہر گھولا گیا جس کا مقصد کمیونزم کے خلاف ایک "مقدس جنگ” کھڑی کرنا تھا۔
1979 سے 1989 کے درمیان امریکہ نے تقریباً 30 ارب ڈالرز صرف جنگجوؤں کو تیار کرنے پر خرچ کیے۔
جنگ کا "بزنس ماڈل” اور 2.3 ٹریلین ڈالرز کا حساب
2001 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد جب امریکہ دوبارہ افغانستان میں داخل ہوا تو اس کا مقصد صرف اسامہ بن لادن کو پکڑنا نہیں تھا بلکہ ایک مستقل ‘وار اکانومی’ (War Economy) کا قیام تھا۔
براؤن یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے 20 سالوں میں 2.3 کھرب ڈالرز خرچ کیے۔
یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے افغانستان جیسے درجنوں ممالک کو دوبارہ صفر سے تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ گیا کہاں؟
اس رقم کا 60 سے 70 فیصد حصہ کبھی افغانستان پہنچا ہی نہیں۔
یہ پیسہ گھوم پھر کر واپس امریکہ کی پانچ بڑی کمپنیوں (Lockheed Martin Boeing Raytheon Northrop Grumman General Dynamics) کے پاس چلا گیا۔
افغانستان میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب امریکی فوجیوں کی تعداد 90 ہزار تھی لیکن نجی کنٹریکٹرز کی تعداد 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔
یہ کنٹریکٹرز سیکیورٹی اور لاجسٹکس کے نام پر روزانہ لاکھوں ڈالرز وصول کرتے تھے۔
ایک گیلن ایندھن کو افغانستان کے دور دراز فوجی بیس تک پہنچانے پر 300 ڈالرز سے زیادہ خرچ کیے جاتے تھے۔ یہ سب ٹیکس گزاروں کا پیسہ تھا جو کمپنیوں کی جیب میں جا رہا تھا۔
امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے افغانستان کی تعمیرِ نو پر 145 ارب ڈالرز خرچ کیے۔ لیکن ‘سیگار’ (SIGAR) کی رپورٹوں نے اس پول کو کھول کر رکھ دیا۔
ایسے علاقوں میں سڑکیں بنائی گئیں جہاں کوئی چلنے والا نہیں تھا۔
ایسے پاور پلانٹس بنائے گئے جنہیں چلانے کے لیے افغان حکومت کے پاس ایندھن کے پیسے نہیں تھے۔
کئی سکول صرف کاغذوں میں موجود تھے جنہیں ‘گھوسٹ سکولز’ کہا جاتا تھا۔ کنٹریکٹرز نے رقم لی عمارت کھڑی کی اور غائب ہو گئے۔
2021 میں جب امریکہ اچانک افغانستان سے نکلا تو اس نے ثابت کر دیا کہ اسے اس ملک کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
وہ اپنے پیچھے 7 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں چھوڑ گیا جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں۔
یہ نقصان کسی امریکی کمپنی کا نہیں تھا کیونکہ وہ پہلے ہی ان ہتھیاروں کی قیمت وصول کر چکی تھیں۔ اب انہیں ان ہتھیاروں کی جگہ نئے آرڈرز ملیں گے اور یہ چکر دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
افغانستان کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جدید دنیا میں جنگ اب سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منافع بخش تجارت بن چکی ہے۔
امریکہ کا ڈیفنس بجٹ 850 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو دنیا کے اگلے 10 بڑے ممالک کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
اس نظام کو زندہ رہنے کے لیے ہمیشہ ایک "دشمن” اور ایک "میدانِ جنگ” کی ضرورت ہوتی ہے۔
کبھی وہ ویتنام ہوتا ہے کبھی عراق کبھی لیبیا اور کبھی افغانستان۔
جب تک جنگ سے منافع بنتا رہے گا انسانی جانوں کی قیمت صفر رہے گی۔