غلط منصوبہ بندی: سیوریج لائن کا منصوبہ کوئٹہ کے شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا

رپورٹ ۔ جمیل کاکڑ

کوئٹہ بلوچستان کا دارلحکومت اور میٹروپولیٹن شہر ہے۔ مگر یہاں زندگی کی دیگر بعض سہولیات کی عدم فراہمی کے ساتھ سیوریج کا خراب نظام بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔

رفیع اللہ کا تعلق کوئٹہ سے شہر کے معروف علاقے جان محمد روڈ پر انکی ایک جنرل سٹور ہے۔ دکان کے سامنے سے گزرنے والی خراب سیوریج لائن رفیع اللہ اور دکان آنے جانے والے دوسرے شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے

رفیع اللہ نے ”بلوچستان 24“ سے کو بتایا کہ جب سال  2012ء میں شہر بھر میں بارش کے اور سیوریج کے پانی کے لیے نئے لائن کے لیے کھدائی کی گئی تو جان محمد روڈ اور شہر بھر کے لوگوں کو یہ لگا کہ یہ لائن فائدہ مند ہوگا اور سیوریج کا خراب نظام درست ہو جائے گا لیکن وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ اس یہ بات غلط ثابت ہوئی کیونکہ کچھ سالوں میں ہی غیر معیاری مٹیریل سے تیارہونے والی سیوریج لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔

رفیع اللہ کے مطابق: خستہ حال سیوریج لائنوں میں جگہ جگہ کھڈے بن گئے ہیں جو نہ صرف لوگوں کے لیے جانی خطرے کا باعث ہیں بلکہ ان لائنوں کی عرصہ دراز سے صفائی نہ ہونے کی وجہ سے سیوریج کا گندا پانی ہر وقت سڑک پر بہہ رہا ہوتا ہے ساتھ ہی ٹوٹ پھوٹ کے شکار یہ لائنیں ٹریفک جام اور حادثات کا  بھی باعث بنتے ہیں۔

رفیع اللہ کے مطابق:”حکام نے سیوریج لائن میں غیر معیاری مٹیریل استعمال کی اور یہ منصوبہ خرد برد کی نظر ہوگیا جس کا نقصان عام شہری اٹھارہے ہیں“۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں شہر بھر میں سیوریج سسٹم کی بہتر ی کے لیے نظام بنایا گیا اور اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا۔

اس منصوبے کے تحت شہر کے علاقوں پرنس روڈ، میکانگی روڈ، جناح روڈ، کواری روڈ، اسپنی روڈ، سبزل روڈ،قمرانی روڈ اور دیگر علاقوں میں سیوریج لائنیں بچھائی گئی مگر شہریوں کا یہ کہنا ہے کہ اس میں باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور روڈ کے درمیان کھدائی کرکے سیوریج لائن بچھائی جس کی وجہ آج مذکورہ علاقوں میں تمام لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ان میں کئی افراد گر کر زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

سیوریج لائن کے ا س منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے میں سابق دور میں حکومت کی اتحادی جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے وزراء کا اہم کردار رہا ہے۔

اس سلسلے میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے ”بلوچستان 24“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پہلے ہی بنایا جاچکا تھا اور سابق میں اس پر 60فیصد کام مکمل ہوچکا تھا انہوں نے کہا کہ انکی حکومت نے سابق حکومت کے منصوبہ کو صرف آگے بڑھایا ہے۔

نصر اللہ زیرے کے بقول: سال 2012میں شہر میں بارش اور سیوریج کے پانی کے اخراج کے لیے بڑے بڑے نالے بنائے گئے اس وقت بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور انکے اتحادی جمعیت علماء اسلام کی حکومت تھی انہوں نے یہ منصوبہ بنایا اور اس پر کام شروع ہوا۔

نصرا للہ زیرے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ متعلقہ کنسلٹنٹ نے ان نالوں کا غلط نقشہ دیا تھا اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے یہ کام جس کی وجہ سے آج یہ منصوبہ ناکام ہوچکا ہے۔

دوسری جانب”بلوچستان 24“نے جب اس منصوبے کے حوالے سے چیف پلانگ کمونیکشن اینڈ ورک بلوچستان علی محمد سے بات کی تو انہوں نے اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے انکار کیا۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان عظیم کا کڑ نے ”بلوچستان 24“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت سابق دور حکومت میں تمام سرکاری محکموں میں ہونے والی بے قاعدگیو ں کے حوالے تحقیقات کررہی ہے۔

عظیم کاکڑ کے مطابق: وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں محکمہ صحت، تعلیم، سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر محکموں سابق دور حکومت میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور ان منصوبوں میں ہونے والے خرد برد کی تحقیقات ہورہی ہے غیر معیاری سیوریج لائنوں کے حوالے سے تحقیقات میں جو بھی ملوث ہوگا انکو قانون کے مطابق سزاء ملے گی۔

غیر معیار ی مٹیریل سے تیار کی جانے والی ان سیوریج لائنوں کی صفائی کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے کوئٹہ کے شہریوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس منصوبے کا ازسر نو جائزہ لیں تاکہ شہر میں سیوریج کا نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں