کوئٹہ: 22لاکھ کی آبادی میں اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ جدید نظام سے ہی ممکن ہے 

: عبدالکریم رپورٹ

ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ شہر میں بھی سٹریٹ کرائم کی شر ح میں اضافہ ہوا ہے۔ دن دہاڑے اور رات کی تاریکی میں لوگ اپنی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں موبائل فونز، نقدی اور قیمتی زیورات سے محروم کئے جاتے ہیں۔

کوئٹہ جو کہ ایک میٹروپولیٹن شہر ہے میں اسٹریٹ کرائمز کو روکنے کے لیے تاحال جدید نظام کا سہارا نہیں لیا گیا اس سلسلے میں حکومتی سطح پر سیف سٹی کے نام سے ایک منصوبے کا اعلان تو کیا گیا ہے مگر تاحال اس حوالے عملی اقدامات نظر نہیں آتے ہیں۔

عبدالہادی پولیوورکر ہیں اور اپنے کام کاج کے سلسلے میں وہ بازار اور شہر کے نواحی علاقوں میں آتے جاتے ہیں۔

عبدالہادی نے”بلوچستان 24“سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چند ہفتے قبل انہوں نے اپنی موٹر سائیکل شاہراہ اقبال میں ایک بینک کے سامنے کھڑی کی اورخودکسی کام کے سلسلے میں بینک چلے گئے۔ کام مکمل ہونے کے بعد جب وہ باہر نکلے تو انکی موٹر سائیکل غائب تھی۔

عبدالہادی کے بقول: تلاش کرنے اور لوگوں سے پوچھنے پر بھی جب موٹر سائیکل نہ ملی توانہوں  نے بینک کے عملے سے استدعا کی کہ سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھیں کہ موٹر سائیکل کسی نے چرائی تو نہیں۔بینک کے عملے نے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ دکھائی جس میں ایک شخص موٹر سائیکل کو گھسیٹ لے جاتے ہوئے نظر آرہا تھا۔

 انہوں نے  بتایا کہ” پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرانے اور سی سی ٹی وی میں ریکارڈنگ کے حوالے سے بھی پولیس کو بتانے کے باوجود آج تک موٹر سائیکل برآمد ہوا نہ ملزم کو گرفتار کیا جاسکا“

کوئٹہ میں پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق سال دوہزار اٹھارہ کے دوران سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا  اور تین ماہ کے دوران سٹریٹ کرائم کی 900وارداتیں مختلف تھانوں میں درج کی گئیں ہیں۔

واضح رہے کہ کوئٹہ گنجان آبادیوں اور پھیلے ہوئے  علاقے پر مشتمل شہر ہے جہاں حال ہی میں حکومت نے ا سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے ایگل فورس کے نام سے ایک نئی فورس تشکیل دی۔

ایگل فورس چار سو پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہے جس میں ہر دستہ چار موٹرسائیکلوں اورجدید اسلحے کیساتھ آٹھ اہلکار گشت کرتے ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ کے مطابق یہ برق رفتار موٹر سائیکل سوار فورس تشکیل دینے کا مقصد چھوٹی گلیوں اور گنجان آباد علاقوں میں ملزمان کا تعاقب کر کے انہیں منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ شہر میں امن و امان، اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ”کوئٹہ سیف سٹی“منصوبہبنایا گیا تھا جس کی منظوری 2018میں ہوئی جس کے تحت شہر بھر میں 1400سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب شامل ہیں۔

انکے بقول: ان کیمروں کی نگرانی کنٹرول روم سے کی جائے گی اور جرائم کو روکنے کا یہ جدید طریقہ پوری دنیا میں کارگر ہے۔

 اس سلسلے میں محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے نام ظاہر نہ کر نے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تمام علاقوں کے پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز میں ملوث افراد کے حوالے تحقیقات کریں اور انکی گرفتاریوں کے حوالے سے عملی اقدمات اٹھائے بصورت دیگر انکے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ادھر حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایگل اسکواڈ فورس کے قیام سے سٹریٹ کرائم کی شرح میں بڑی حد تک کمی آئی ہے شہری اپنے کو محفوظ تصور کرنے لگے ہیں جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق 22لاکھ سے زائد ہے اور یہ ایک میٹروپولیٹن شہر ہے جہاں اسٹریٹ کرائمز کو صرف پولیس گشت سے روکنا ناممکن ہے اس کے لیے جدید نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں