محکمہ خوراک میگا اسکینڈل: بلوچستان حکومت نے گندم چوری کو روکنے کے لیے پالیسی بنالی

رپورٹ: جمیل کاکڑ

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں بلوچستان میں محکمہ خوراک کا میگا اسکینڈلسامنے آیاجس میں محکمہ خوراک کے گوداموں سے2لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں غائب کی گئیں

نیب بلوچستان نے سابق صوبائی وزیر اسفند یار کاکڑ اور اس وقت کے ڈی جی فوڈ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے قومی خزانے کو 2 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔

نیب نے سابق وزیر خوراک اسفند یار کاکڑ کے خلاف کرپشن کے 3 ریفرنسز تقریباً تین برس قبل دائر کیے تھے جن میں پشین کے ایک اسٹور سے 100 کلو گرام گندم کے 2 لاکھ 56 ہزار بوریاں غائب ہونے کا الزام اسفند یار کاکڑ پرعائد کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اسفند یار کاکڑ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے کابینہ میں وزیر خوراک تھے اوربلوچستان کے ضلع پشین سے پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

سابق صوبائی وزیر خوراک کے کیس میں نیب کی جانب سے کیس کی پیروی کر نے والے ماہر قانون ارشد گولڑہ نے ”بلوچستان 24“ سے بار چیت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک میگا اسکینڈل کیس زیر سماعت ہے جس میں کرپشن کے الزام میں اسفند یار کاکڑ سمیت سات افراد کیخلاف کیس چل رہا ہے۔

ارشد گولڑہ ایڈووکیٹ کے مطابق ”ملزمان پر کل 2لاکھ بوری گندم اور 914.466ملین رقم خوربرد کرنے کا الزام ہے“۔

دوسری جانب موجودہ حکومت کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں اور دیگر محکموں کی طرح محکمہ خوراک میں بھی بدعنوانی کا راستہ روک دیاگیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر عظیم کاکڑ نے ”بلوچستان24“ کو بتایا کہ محکمہ خوراک کے حوالے سے ایک پالیسی بنائی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی ایک بوری گندم بھی لے جائیگا تو اس کی رسید بنے گی اور یہ تمام ریکارڈ وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے پیش ہوگا

عظیم کاکڑ کے مطابق ”سابقہ ادورا میں ہونیوالے بدعنوانی کیس میں ہم نے پندرہ کروڑ کی ریکوری کرلی ہے جبکہ30بندوں کیخلاف انکوائری چل رہی ہے اور محکمہ کے بارہ ملازمین کو ملازمت سے فارغ بھی کردیاگیا ہے“

عظیم کاکڑ کے بقول:محکمہ خوراک کے علاوہ دیگر محکموں میں بدعنوانی کیخلاف کارروائی جاری ہے اور محکمہ صحت میں 35افراد کیخلاف انکوائری ہورہی ہے ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کہ بدعنوانی کیلئے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔

حکومت بلوچستان اور محکمہ خوراک کے اعلیٰ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں محکمہ خوراک میں بدعنوانیوں کور وکنے کے لیے نصیر آباد ڈویژن سمیت دیگر علاقوں میں گندم کے گوداموں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے تاکہ آئندہ محکمہ خوراک میں خودبرد کا کوئی اسکینڈل سامنے نہ آسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں