گوادر ،ساحل پر ریت سے بنے فن پاروں کا مقابلہ  

خصوصی رپورٹ ۔۔۔۔بلوچستان 24

گوادر کے ساحل نے شاید یہ نظارہ پہلے بار دیکھا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ریت سے شاہکار بنانے والوں کو دیکھ رہی تھی

یہ  پروفیشنل فنکار کسی ادارے سے پڑھے نہیں ہیں بلکہ ان کو خداداد صلاحیتیں ملی ہیں جو ریت سے ایسے فن پارے بنارہے ہیں جن پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے

غیر سرکاری تنظیم بامسار اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے پاکستان اور گوادر کے ساحل پدی زر پر سینڈ آرٹ “گوادر ریکساچ میڈاند ” کے پہلے  مقابلوں کا انعقاد کیا گیا

مقابلوں میں گوادر ،پسنی ،گڈانی سے سینڈ آرٹ کے فن کاروں نے حصہ لیا

یہ اپنی نوعیت کا واحد مقابلہ تھا جس میں حصہ لینے والے فن کاروں نے یہ فن خود محنت کرکے سیکھا ہے

مقابلوں میں20 ٹیموں کے 80 فن کاروں نے حصہ لیا جن میں ،مردوں اور لڑکیوں کے علاوہ سکول کے بچے بھی شامل تھے

بامسار تنظیم کے مرکزی عہدیدار اور اس پروگرام کے روح رواں نصیر محمد نے بتایا کہ ہمارا مقصد یہاں کے باصلاحیت فن کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے

نصیر محمد کے مطابق اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائےتاکہ سینڈ آرٹ اور دیگر ان جیسے فن کاروں کو ان کا مقام مل سکے

نصیر محمد کے بقول گوادر ،پسنی اور گڈانی میں سینڈ آرٹ کے قابل فن کار موجود ہیں جنہیں حکومتی توجہ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے

نتائج کے مطابق اس مقابلے میں پروفیشنل کیٹگری میں پہلی پوزیشن ازم آزمان پسنی نے لی

مرحوم شوکت اکبر کلب گڈانی نے دوسری پوزیشن حاصل کی

ازم آزمان پسنی ٹو نے مقابلوں میں تیسری  پوزیشن حاصل کی

طلبا کی کیٹگری میں کنگ گروپ گوادر جس میں تین لڑکیاں اورایک لڑکا شامل تھے نے پہلی پوزیشن حاصل کی

گورنمنٹ بوائز سکول ببر شور نے دوسری اور ہائر سکینڈری سکول پسنی نے تیسری پوزیشن لی

بامسار تنظیم کی کوشش ہے کہ گوادر میں آرٹ کلچر اور ادب کے حوالے سے ایسے ادارے بنائے جائیں جن میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے

گوادرمیں باصلاحیت نوجوانوں اور فنکاروں کی کمی نہیں لیکن وہ غربت اور وسائل نہ ہونے کے باعث اپنے فن کو  مزید دوام نہیں دے سکتے

بامسار کی حکومت سے سینڈ آرٹ کے پروگرام کے ذریعے اپیل رہی کہ گوادر میں ان جیسے فن کاروں کیلئے باقاعدہ ادارہ قائم کیا جائے تاکہ ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آسکیں اور دنیا میں ملک کانام روشن کرسکیں

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں