گوادر کے نہتے اور پیاسے عوام اور حکومتی بے حسی

0

گستاخیاں/ولی محمد زہری

قتیل شفائی کے ایک شعر قارئین کی نظر

نہیں دیکھا اس جیسا بڑا منافق دنیا میں قتیل
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,727

‏حق دو تحریک گوادر میں ھماری مائیں اور بہنیں جوان اور بوڑھے 10 دسمبر کی رات کو بھی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے دھرنے پر بیھٹے ہوئے ہیں ۔

قوم پرستوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی خاموشی منافقت کی اعلی مثال ہے کیا بلوچستانی عوام کی تقدیر تقاریر کرنے نعرے لگانے اور دورخی چالیں چلنے سے حل ہو سکتے ہیں؟

کیا گوادر بلوچستانیوں یا بلوچوں کا حصہ نہیں؟ کہاں ہیں بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست؟ کہاں ہیں مرکزی و دیگر سیاسی جماعتیں؟ اب بلوچستانیوں کو بیدار ہونا ہوگا صوبے کے ان سیاسی آستین کے سانپوں کو پہچاننا ہوگا؟ دوست اور ہمدرد کی روپ میں منافق سیاست کو سمجھنا ہوگا ورنہ بدحالی پسماندگی محرومیوں تمہاری مقدر ہونگی اور بلوچستان پر سیاست کرنے والے دبئی لندن امریکہ جرمنی جنیوا کینڈا و دیگر ممالک میں ڈالڑز اور یوروز سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہوں گے جبکہ ہم اہل بلوچستان بھوک پیاس افلاس بدحالی پسماندگی احساس محرومی کا رونا روتے رہیں گے

اہل بلوچستان کی خاموشی اپنے حقوق سے پردہ ہوشی اور غفلت کا عظیم مظاہرہ ہے بلوچستان کے سی ہیک کے ڈھنڈورا پیٹنے والے وفاقی اور ترقی کی جال پھچانے والے صوبائی حکومت کہاں ہیں کیا انہیں گوادر میں ماوں بہنوں بچوں بوڑوں جوانوں کی بیداری نظر نہیں آ رہی یے سلام ہے ان نام نہاد قوم پرستوں کو جو صوبے کا مادر وطن سال اور وسائل کے محافظ عوام کے ہمدرد اور خیر لواہ صوبے کے جق وحقوق صوبائی خود مختیاری حق حاکمیت پاسبان کے دعقے اور نعرے لگانےبوالے کہاں غائب ہو گئے ہیں انہیں ؓین کھا گئی ہے یا آسمان نگل گیا ہے یا پھر گنگے بہرے ہو چکے ہیں یا پھر وہ سب چھوڑ کر صوبے کے عوام کا دودا کرکے چکے ہیں اور اگر واقعی انہوں نے سودا کیا ہے تو پھر چند کوڑیوں پر اپنی ضمیر قومی خیرت کو بیچ کر بلوچستانیوں سے نام نہاد قوم پرستوں نے گھاٹے کابسودا کیا ہے اب بھی وقت ہے کہ بی این ہی مینگل نیشنل پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی جمعیت علماءاسلام مسلم لیگ ن پی پی پی و دیگر جماعتوں کے قائدین گوادرپہنچ جائیں گوادر عوامی تحعیک کی دل وجان سے حمایت کریں اور حکومت کو مجبور کریں کہ وہ فورا مطالبات مان کر گوادر کے باسیوں کو جدید سہولیات سمیت پانی کی فراہمی شروع کر دے بصورت دیگر قوم پرستوں سمیت دیگر جماعتوں کی سیاست اور منافقت عوام پر آشکار ہوگی جوکہ سیاسی جماعتوں کے لئے عوام کی جانب سے موت کا پروانہ ہوگی۔اب حقیقی معنوں میں اس نعرے کو زندہ کرنا ہوگا جینا ہوگا مرنا ہوا گوادر میں دھرنا ضرور ہوگا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.